.

روسی ایجنٹ پر زہریلا حملہ ، برطانوی وزیراعظم کی ماسکو کے خلاف مزید اقدامات کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے جاسوس کو زہر دینے کے معاملے کے سلسلے میں روس کو مزید اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے اپنے وزراء کو آگاہ کیا کہ وہ روس کے خلاف طویل مدت کی اضافی جوابی کارروائیوں کا ارادہ رکھتی ہیں۔

دوسری جانب نیٹو اتحاد بھی روسی ایجنٹ کے معاملے کے پس منظر میں نئی تدابیر کے اعلان کی تیاری کر رہا ہے۔

روسی میڈیا ایجنسی کے مطابق کرملن ہاؤس کے ترجمان دیمتری بیسکوف نے NTV چینل پر ایک پروگرام کے دوران برطانیہ کے اس الزام کا جواب دیا کہ سرگئی اسکریپال کو زہر دینے کا ذمے دار ماسکو ہے۔ بیسکوف کا کہنا تھا کہ "ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ ایک غیر مسبوق امر ہے کہ بین الاقوامی امور اس نہج پر پہنچ جائیں جس کو راستے کے ڈاکوؤں والا انداز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے ؟ کیا یہ برطانیہ کے اندرونی مسائل ہیں یا اس کے اپنے حلیفوں کے ساتھ تعاون میں مشکلات اور یا پھر کوئی اور بات ؟ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ہمارا معاملہ نہیں ہے"۔

ماسکو نے چار مارچ کو روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپال اور اس کی بیٹی پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلا موقع ہے جب یورپ میں زہریلا Nerve Agent استعمال کیا گیا۔

برطانیہ نے روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا جس کے جواب میں ماسکو نے بھی اتنے ہی برطانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا۔

برطانیہ کے بعد امریکا ، آسٹریلیا اور کئی یورپی ممالک نے بھی اس واقعے کے پس منظر میں روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔