.

سعودی عرب نے حوثیوں کو میزائل فراہم کرنے پر ایران کے احتساب کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے ایرانی حوثی بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے ایک خط عالمی سلامتی کونسل کو ارسال کیا ہے۔ یہ خط اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے سربراہ کے حوالے کیا۔

سعودی عرب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں اپنی ذمّے داری پوری کرے اور حوثی ملیشیا کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنے پر ایران کا احتساب کرے۔

سعودی عرب کا یہ پیغام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس سے ملاقات سے ایک روز پہلے سامنے آیا ہے، یہ ملاقات منگل کی شام ہو گی۔

عرب اتحاد

ادھر یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ریاض میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کی طرف سے حوثی ملیشیا کو میزائلوں کی اسمگلنگ کے ثبوت پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ یمن اس وقت ایران کی مداخلت اور باغی حوثی ملیشیا کے لیے تہران کی سپورٹ کے نتائج سے دوچار ہے۔ المالکی کے مطابق دہشت گرد حوثی ملیشیا کے پاس بیلسٹک میزائل کا ہونا ایک خطرناک امر ہے۔

یاد رہے کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے اتوار کے روز 7 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا تھا۔ یہ میزائل یمنی اراضی میں موجود حوثیوں نے مملکت پر داغے تھے۔

ترجمان نے یمن میں پکڑے جانے والے ایک ایرانی میزائل کو بھی پیش کیا جو تہران نے باغی ملیشیا کے لیے اسمگل کیا تھا۔ میزائل پر فارسی زبان میں کوئی عبارت تحریر تھی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ عرب اتحاد یمن میں میزائلوں کی ایک کھیپ ضبط کرنے میں کامیاب رہا۔

ترکی المالکی کے مطابق یمنی دارالحکومت صنعاء میں حوثیوں کا بین الاقوامی ایئرپورٹ کو عسکری بیرک کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلی پامالی ہے۔ اس کے نتیجے میں امدادی طیاروں کو نشانہ بننے کا خطرہ لاحق ہے۔

المالکی نے مزید بتایا کہ عرب اتحاد نے ایرانی ساخت کے "قيام" میزائل بھی ضبط کیے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر یہ میزائل مملکت پر داغنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ترجمان کے مطابق سعودی عرب مناسب وقت پر مناسب صورت میں ایران کو جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ مملکت کو یہ حق بین الاقوامی قانون کے ذریعے حاصل ہے جس میں اقوام متحدہ کا منشور شامل ہے۔

ترکی المالکی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرنے پر ایران کا احتساب کرے۔ المالکی کے نزدیک دنیا کو اس وقت دہشت گرد جماعتوں اور ملیشیا کی سپورٹ اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے منظم جرائم کا سامنا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے سعودی دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنایا جہاں 80 لاکھ شہری بستے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر میزائل جن میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی شامل ہے، یمن میں صعدہ اور عمران صوبوں سے داغے گئے جو حوثی ملیشیا کے گڑھ ہی۔

عرب اتحاد کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سامنے پیش کی گئی تصاویر کے ذریعے بتایا کہ ایران سے یمن اسمگل کرنے کے بعد میزائلوں کو کس طرح اسمبل کیا جاتا ہے۔

المالکی کے مطابق ایران ان میزائلوں کی اسمگلنگ کے واسطے یمن کی الحدیدہ بندرگاہ سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔