جب میکسیکو کے صدر نے سرکاری طور پر اپنی "کٹی ہوئی ٹانگ" کی آخری رسوم انجام دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

میکسیکو سے تعلق رکھنے والا جنرل "آنتونیو لوپز دو سانتا آنا" 19 ویں صدی کے پہلے نصف حصّے میں ملکی تاریخ کی اہم ترین سیاسی شخصیت شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے میکسیکو کی صدارت بھی سنبھالی جس کے دوران کئی انوکھے واقعات رُونما ہوئے۔

مئی 1833ء میں میکسیکن جنرل تیزی کے ساتھ سیاسی افق پر بلند ہوا اور ملک کا صدر بن گیا۔ اس سے قبل وہ ہسپانیہ کی جانب سے عسکری چڑھائی کو پسپا کر کے اپنے عوام کے دل میں گھر کر چکا تھا۔ وہ فرانسیسی فاتح جنرل نپولین بوناپارٹ سے بے حد متاثر تھا اور خود کو مغرب کا بوناپارٹ خطاب دینے میں کسی طور نہیں ہچکچاتا تھا۔

اس کے علاوہ میکسیکن جنرل نے نپولین کے دور میں فرانسیسی فوج کے اپنائے گئے عسکری رواجوں سے ملتے جلتے اقدامات پر عمل درامد کیا۔ میکسیکو کی فوج نے فرانسیسی فوج جیسی وردیاں پہنیں اور نپولین بوناپارٹ کی حکمت عملی سے ملتی جلتی حکمت عملی کا سہارا لیا۔ اسی وجہ سے میکسیکو کی فوج نے 1836ء میں ٹیکساس کی جنگ میں وہ ہی نتیجہ حاصل کیا جو فرانسیسی فوج نے 1812ء میں روس کے خلاف اپنی عسکری مہم جوئی میں حاصل کیا تھا۔

میکسیکو نے 1821ء میں خود مختاری حاصل کی جس کے بعد ملک سیاسی انتشار کا شکار تھا۔ ایسے میں آنتونیو لوپز دو سانتا آنا نے صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور اپنی عسکری کامیابیوں کی بنیاد پر 1833ء سے میکسیکو کے صدر کے منصب پر فائز ہو گیا۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ جنرل آنا کبھی خود کو جمہوریت پسند اور آزاد خیال قرار دیتا اور کبھی خود کے قدامت پسند اور آمر ہونے کا اعلان کرتا۔

سال 1838ء میں جنرل آنا نے فرانسیسی فوج کے میکسیکو میں داخل ہونے پر دفاعی عسکری مہم کی قیادت سنبھالی۔ اسی دوران ایک معرکے میں فرانسیسیوں کے محاصرے میں آنے والا جنرل آنا شدید زخمی ہونے کے بعد اپنی ایک پنڈلی سے محروم ہو گیا۔

ڈاکٹروں نے جنرل آنا کی ٹانگ کاٹ دی۔ بعد ازاں 1838ء میں اپنی دلیری اور شجاعت کو امر کر دینے کے واسطے جنرل آنا نے 1842ء میں قبر سے اپنی کٹی ہوئی ٹانگ کی باقیات نکلوائیں اور اسے کئی عسکری اعزازات اور خطابات سے نوازا۔ پھر اس سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر اس نے سرکاری طور پر اپنی کٹی ہوئی ٹانگ کے جنازے کی آخری رسوم ادا کیں۔

جنرل آنا نے نقل و حرکت کے لیے مصنوعی ٹانگ کا سہارا لیا۔ تاہم 1847ء میں امریکا میکسیکو جنگ کے دوران وہ ہو گیا جس کا جنرل آنا نے کبھی سوچا بہ نہ تھا۔ امریکی فوج کی فورتھ انفنٹری نے معرکے کے دوران میکسیکن جنرل کا محاصرہ کر لیا جس کے نتیجے میں جنرل آنا اپنی تمام املاک چھوڑ کر فرار ہو جانے پر مجبور ہو گیا۔ اس دوران جنرل آنا کی مصنوعی ٹانگ بھی امریکی فوج کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں