.

سائبرحملے،ٹرمپ کے ساتھی قطر کے خلاف عدالت جا پہنچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطرکی جانب سے مبینہ طورپر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک اہم رکن کے کمپیوٹرپر کیے گئے سائبرحملے میں ملوث ہونے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقربین حرکت میں آگئے ہیں اور انہیں دوحہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کے روح رواں الیوٹ برویڈی نے ’لاس اینجلس‘ کی ایک عدالت میں قطر کے خلاف دعویٰ دائر کیا ہے جس میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ قطر نے ان کے پرائیویٹ کمیپوٹر کو ہیک کرکے اس کا ڈیٹا چرایا اور اسے ذرائع ابلاغ میں شائع کرانے کی کوشش کی تھی۔

خبر رساں ادارے ’بلومبرگ‘ کے مطابق لاس اینجلس کی عدالت میں دائر کردہ دعوے میں کہا گیا ہے کہ قطر سائبر جنگ میں ملوث اور اس نے کمیپوٹر کو ہیک کرنے، جاسوسی کرنے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کئے تھے۔

درخواست گذار کا دعویٰ ہے کہ قطر کی طرف سے سائبر حملہ گذشتہ برس دسمبر میں کیا گیا۔ یہ ایک حملہ نہیں بلکہ کئی روز تک جاری رہنے والی کارراوئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر نے امریکی وکیل نیکولس موزین کے تعاون سے کمپیوٹر ڈیٹا ہیک کرنے کے بعد سے نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل، بلومبرگ نیوز ایجنسی اور کئی دوسرے ذرائع ابلاغ میں شائع کرنا تھا تاکہ برویڈی کو امریکا میں ایک متنازع شخص بناکر پیش کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ موصوف ٹرمپ کی مہم کاحصہ بن کر وائیٹ ہاؤس کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برویڈی کا کہنا ہے کہ مجھے اس لیے انتقامی کارروائی کا ہدف بنایا گیا کہ میں قطر کی دہشت گردی کی پشت پناہی کے موقف کے خلاف تھا۔ میرا موقف تھا کہ قطر دہرے معیار پر چل رہا ہے۔

ادھر امریکا میں قطری سفارت خانے کے ترجمان جاسم آل ثانی نے کہا ہے کہ دوحہ کے خلاف برویڈی کے دعوے کی کوئی منطق اور حقیقت نہیں۔ اس کامقصد ذرائع ابلاغ میں قطر کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانا ہے۔

برویڈی کے وکیل لی ولیسکی کا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ قطر کے خلاف دائر کی گئی درخواست سے ان لوگوں کو سزا دینے کی راہ ہموار ہوگی جو امریکا کی ایک ہم شخصیت کو نقصان پہنچانے کے لیے امریکا آئے تھے۔