.

ایرا ن : احمدی نژاد کے اتحادی سابق نائب صدر کی جیل میں بھوک ہڑتال، حالت تشویش ناک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ان کے اتحادی سابق نائب صدر حمید بقائی اپنی گرفتاری کے بعد سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کی صحت روز بروز بگڑتی جارہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سابق نائب صدر کو سیاسی محرکات کی بنا پر جیل میں قید کیا گیا ہے۔

انھوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط لکھا ہے اور یہ ان کے حامیوں نے ایک ویب گاہ دولتِ بہار پر شائع کیا ہے۔احمدی نژاد کا قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ بالخصوص عدلیہ کے ساتھ تنازع چل رہا ہے اور وہ ملک کے نظام حکومت میں بہتری کے لیے وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انھوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’ عدالتی نظم نے کسی دستاویز یا ثبوت یا قانونی حوالے کے بغیر ہی مالیاتی الزام کی بنیاد پر بند کمرے کی سماعت کے بعد حمید بقائی کو سخت ترین سزا سنا دی تھی‘‘۔

حمید بقائی احمد نژاد کے دور حکومت میں ان کے نائب صدر رہے تھے ۔انھیں ایرانی عدلیہ نے اسی ماہ 37 لاکھ 66 ہزار یورو اور پانچ لاکھ 90 ہزار ڈالرز خرد برد کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ انھیں یہ رقوم پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کے ذمے دار او ر القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے افریقی ممالک کے ساتھ معاملات نمٹانے کے لیے دی تھیں۔

مگر سابق صدر اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ ’’ مسٹر بقائی نے کبھی استغاثہ کے ان الزامات کی صحت کو تسلیم نہیں کیا اور وہ عدالتی نظم کی اس نا انصافی کے خلاف گذشتہ 14 روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں ۔یہ پتا چلا ہے کہ ان کی جسمانی حالت بگڑتی جارہی ہے۔انھیں گرفتاری کے پہلے دن سے قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے‘‘۔

انھوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ کسی بڑے المیے اور ناقابل تلافی نقصان سے بچنے کے لیے فوری مداخلت کریں ‘‘۔

دولتِ بہار ویب سائٹ نے قبل ازیں اپنی ایک رپورٹ میں حمید بقائی کا ایک بیان نقل کیا تھا۔اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’ بالفرض اگر یہ ناممکن اور من گھڑت کہانی درست بھی ہو تو پھر اس پر مجھے ماخوذ کیا جانا چاہیے یا جنرل قاسم سلیمانی کو پکڑا جانا چاہیے جنھوں نے یہ غیرملکی کرنسی مہیا کی تھی‘‘۔

احمدی نژاد اور حمید بقائی کا دعویٰ ہے کہ دسمبر میں اس مقدمے کی سماعت کے وقت رقوم کی مبیّنہ منتقلی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا اور اس کے بغیر ہی سزا سنا دی گئی تھی۔