.

سعودی عرب نے جازان پر داغا گیا حوثیوں کا ایک اور بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا : ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کی شب یمن سے حوثی ملیشیا کے جازان کی جانب داغے گئے ایک اور بیلسٹک میزائل کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا ہے اور اس کو کسی ہدف پر گرنے سے قبل ہی تباہ کردیا ہے۔

عرب اتحادی فورسز کے ترجمان کرنل ترکی ا لمالکی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جمعرات کی شب ٹھیک 9 بج کر 35 منٹ پر سعودی شاہی فضائیہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو ناکارہ بنایا ہے۔یہ میزائل یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے علاقے سے سعودی عرب کے سرحدی شہر جازان کی جانب داغا گیا تھا اور اس سے جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا :’’ حوثیوں کا یہ جارحانہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی رجیم نے ان کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد وں 2216 اور 2231کی صریح خلاف ورز ی کا مرتکب ہور ہا ہے۔اس کے مہیا کردہ ان ہتھیاروں سے سعودی عرب کے علاوہ خطے کی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا ہوچکے ہیں ‘‘۔

کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ ’’ یمنی حوثی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے گنجان آباد شہروں اور دیہات کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے‘‘۔

یمنی حوثیوں کی اس جارحانہ اشتعال انگیزی سے ایک روز قبل ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کے سعودی عرب کی جانب میزائل حملوں کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ان بیلسٹک میزائلوں سے پورے خطے کی سلامتی خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔

سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زوردیا تھا کہ وہ یمن پر عاید اسلحے کی پابندی سے متعلق قرارداد نمبر 2216 سمیت تمام قراردادوں کی پاسداری کریں ۔سلامتی کونسل نے اس پابندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے 6 جون 2015ء کے بعد سے داغے گئے 104 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنایا ہے۔ ان میں ایک سکڈ میزائل بھی شامل تھا ۔سعودی فورسز نے اسی ہفتے دارالحکومت الریاض سمیت چار شہروں کی جانب داغے گئے سات میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کیا ہے۔

کرنل ترکی المالکی نے گذشتہ سوموار کو ایک نیوز کانفرنس میں الریاض کی جانب اتوار کی شب داغے گئے میزائل کا بطور خاص تذکرہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ ایرانی ساختہ قیام میزائل تھا۔انھوں نے نیوز کانفرنس کے دوران میں صحافیوں کو اور بھی متعدد میزائل دکھائے تھے اور ان کے بارے میں بتایا تھا کہ انھیں یمن میں ایران سے اسمگل کرکے لایا گیا تھا لیکن انھیں حو ثی ملیشیا کے ہاتھ لگنے سے قبل ہی عرب اتحادی فورسز نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ان میں ایرانی ساختہ صیّاد (شکاری) میزائل بھی شامل تھا۔