امریکی فوجیوں کو شام میں درمیانی مدت کے لیے موجود رہنا چاہیے: سعودی ولی عہد

امریکا کی فوجی موجودگی ہی سے ایران کو اپنے اثرات پھیلانے سے روکا جاسکتا ہے،بشارالاسد کی رخصتی کا امکان نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ امریکی فوج کو شام میں اگر طویل مدت کے لیے نہیں تو کم سے کم درمیانی مدت کے لیے ضرور موجود رہنا چاہیے۔

انھوں نے یہ بات ٹائم میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کی شام میں موجودگی ہی کے ذریعے ایران کوخطے میں اپنا اثرورسوخ پھیلانے سے روکا جاسکتا ہے۔

سعودی ولی عہد کے بہ قول : ’’ امریکا اپنے فوجیوں کی موجودگی سے شام کے مستقبل کے بارے میں کوئی کردار ادا کرسکے گا ‘‘۔انھوں نے کہا کہ ’’ اگر آپ ان فوجیوں کو مشرقی شام سے نکال لیں گے تو آپ اس چیک پوائنٹ سے محروم ہوجائیں گے اور اس سے علاقے میں کئی ایک چیزوں کے در وا ہوسکتے ہیں ‘‘۔

واضح رہے کہ شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں اس وقت قریباً دوہزار امریکی فوجی موجود ہیں ۔ان کی معاونت ہی سے عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف ) نے داعش کو ان کے زیر قبضہ علاقوں سے نکال باہر کیا ہے اور اب وہاں وہ کردملیشیا کے کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔

سعودی ولی عہد کے اس بیان سے چندے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوہائیو میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کو شام سے بہت جلد واپس بلا لیا جائے گا اور اب وہاں دوسرے لوگوں کو کام کرنا چاہیے۔

اس انٹرویو میں سعودی ولی عہد نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں شامی صدر بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی کا امکان نہیں ہے۔تاہم انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ ’’بشارالاسد ایران کے ’’ کٹھ پتلی‘‘ نہیں بنیں گے اور وہ اپنے مفاد میں ایرانیوں کو ملک میں وہ کچھ نہیں کرنے دیں گے جو وہ کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں