.

ایرانی حکام کی گرفتار شخص کی بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکی : ایمنسٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں ایک صوفی سلسلے سے تعلق رکھنے والے 8 افراد نے جیل میں حکام کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر احتجاجا بھوک ہڑتال کر دی ہے۔ ان افراد کو گزشتہ ماہ احتجاجی مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا جس میں سکیورٹی فورسز کے بعض اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

ایمنسٹی کی جانب سے بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد میں شامل ایک شخص عباس دہقان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس نے اعترافی بیان نہ دیا تو عباس کی بیوی کو اس کی آنکھوں کے سامنے عصمت دری کا نشانہ بنایا جائے گا۔

تنظیم کے مطابق بھوک ہڑتالیوں کو طبی دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ یہ لوگ 19 فروری کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد گرفتاری کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔

یہ پرتشدد کارروائیاں اس مظاہرے کے دوران سامنے آئیں جو تہران کے شمال میں "درویش" کے نام سے معروف صوفی سلسلے کے پیروکاروں نے منعقد کیا تھا۔ مظاہرین اپنے متعدد ساتھیوں کے گرفتار کیے جانے اور اپنے روحانی پیشوا کو حراست میں لیے جانے سے متعلق افواہوں کے سبب احتجاج کر رہے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید بتایا کہ حکام کی جانب سے جیل میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے طریقوں میں لاتیں اور مکے مارنا، پلاسٹک کے پائپوں یا بجلی کے تاروں اور یا پھر کوڑوں سے پٹائی اور مختلف طریقوں سے لٹکانا شامل ہے۔