یمن : الحدیدہ میں آتش زدگی ،عالمی امدادی سامان کے پانچ گودام جل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے زیر قبضہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر آگ لگنے سے اقوام متحدہ کے تحت عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی )کے مہیا کردہ امدادی سامان سے بھرے پانچ گودام جل کر راکھ ہو گئے ہیں ۔بندرگاہ پر تعینات کارکنان کے مطابق آتش زدگی سے کھانا پکانے کا تیل اور دیگر اشیاء جل گئی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق الحدیدہ شہر کے علاقے کیلو ہفتم میں ہفتے کی صبح عالمی خوراک پروگرام کے زیر انتظام پانچ گوداموں میں آگ لگی تھی۔ان میں کھانا پکانے کے تیل سمیت خوراک کی مختلف اشیاء ذخیرہ کی گئی تھیں۔

ڈبلیو ایف پی نے ابھی تک آگ لگنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے اور حوثی ملیشیا نے بھی اس معاملے میں دم تحریر خاموش اختیار کررکھی ہےاور انھوں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔البتہ عالمی خوراک پروگرام کے ایک ملازم نے ٹیلی فون کے ذریعے رائیٹرز کو اپنے طور پر بتایا ہے کہ ’’آگ سے ایندھن ،انسانی امداد اور خوراک کی بھاری مقدار جل گئی ہے اور اب آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات کی جائے گی‘‘۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نے ایک بیان میں امدادی سامان کے اس طرح نذر آتش ہونے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کے حقیقی ذمے داروں کا تعیّن کیا جاسکے۔بیان میں حوثی ملیشیا کو آتش زدگی کے اس واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بحیرۂ احمر کے کنارے واقع الحدیدہ کی بندرگاہ سے ہی یمن کی تمام درآمدات ہوتی ہیں ۔ عالمی اداروں کی جانب سے بھیجی گئی خوراک اور دوسری امدادی اشیاء سے لدے بحری جہاز بھی اسی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے ہیں۔

بندرگاہ پر کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ ان گوداموں میں ہزاروں میٹریس بھی موجود تھے جو یمن میں جاری جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے بھیجے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق یمن کی آبادی 28,740,156 نفوس پر مشتمل ہے ۔ان میں سے دو کروڑ20 لاکھ افراد یعنی ہر چار میں سے تین یمنیوں کو امداد کی شکل میں خوراک ،ادویہ اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی فوری ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں