.

2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو مختلف النوع امداد کی فوری ضرورت ہے: یمنی وزیر

حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ ایلچی مارٹن گریفتھ کی موجودگی میں باہر سے آنے والے امدادی سامان پر قبضہ کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر برائے مقامی انتظامیہ اور چیئرمین اعلیٰ امدادی کمیٹی عبدالرقیب نے حوثی ملیشیا پر نے تمام امدادی ذرائع منقطع کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور وہ شہریوں تک زندگی بچانے والی ادویہ اور امدادی خوراک پہنچنے سے روک رہے ہیں ۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز چینل سے ہفتے کے روز خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے یمن میں انسانی صورت حال اور درکار امداد کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔انھوں نے کہا کہ یمنی حکومت کے علاوہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ 82 فی صد یمنی عوام یعنی دو کروڑ بیس لاکھ شہریوں کو مختلف اقسام کی امداد کی فوری طور پر اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ ہم وفاقی یمن کی عدم مرکزیت کی جانب گامزن تھے اور اتھارٹی اور دولت میں حقیقی شراکت داری قائم کرنے جارہے تھے لیکن باغی قوتوں نے ’’ تم پر حکومت کرو یا قتل کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کی۔چنانچہ اس سے جنگ اور المیے نے جنم لیا اور اس کو آج ہم بھگت رہے ہیں ۔اب فوری خوراک ، ادویہ مہیا کرنے اور زخمیوں کے علاج معالجے اور وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے‘‘۔

عرب اتحاد کا کردار

عبدالرقیب فتح نے بتایا کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی جانب سے مہیا کی جانے والی امداد مؤثر رہی ہے۔انھوں نے عرب اتحاد کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 پر عمل درآمد کے ضمن میں کردار کو سراہا ہے۔

اس میں امدادی سامان کی یمن میں ترسیل کا طریق کار وضع کیا گیا تھا ۔اس کے تحت اقوام متحدہ اور یمنی حکومت کے درمیان ایک سمجھوتا طے پایا تھا کہ پڑوسی ملک جیبوتی میں ایک معائنہ اور کنٹرول مرکز قائم کیا جائے گا اور یمن میں امدادی یا تجارتی جہازوں کی آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت یمن میں امدادی سامان کی آمد کے لیے سترہ بندرگاہیں ، ہوائی اڈے اور زمینی گودیاں مختص ہیں ۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے بھی جازان کی بندرگاہ کو امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

یمنی وزیر نے العربیہ سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کی موجودگی میں باہر سے آنے والے امدادی سامان پر قبضہ کرلیا تھا اور یوں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور غیر قانونی سرگرمی کا ارتکاب کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا ہے ۔انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ باغی ملیشیا امدادی سامان کی لوٹ مار کررہی ہے اور اس کو یمن میں انسانی امداد کی ضرورت مند شہریوں تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کا قصوروار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

فتح نے بتایا کہ شاہ سلمان انسانی امدادی مرکز نے یمن میں مختلف اقسام کی امدادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔فروری 2018ء تک اس مرکز نے 203 کثیر المقاصد امدادی پروگرام اور منصوبے مکمل کیے تھے۔اس نے تعز شہر کا محاصرہ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور حوثی باغیوں کے زیر قبضہ صوبہ صعدہ میں بھی 220 ٹن امدادی سامان اور ادویہ بھیجی ہیں۔

ان کی وزارت حوثیوں سے بازیاب کرائے گئے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔اس مقصد کے لیے اس نے وزارت ، مقامی حکام اور شہری تنظیموں کے درمیان ایک مربوط نظم قائم کیا ہے۔اس کے علاوہ وہ مقامی سطح پر چھوٹے ترقیاتی منصوبوں پر بھی عمل درآمد کررہی ہے۔