.

بحرین میں 1932ء کے بعد تیل کا سب سے بڑا کنواں دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین نے اتوار کو تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کیا ہے۔یہ اس ننھی ریاست کے مغربی ساحل میں خلیج البحرین میں واقع ہے۔

بحرین میں 1932ء کے بعد تیل کے ذخیرے کی یہ سب سے بڑ ی دریافت ہے۔تب بحرین نے اپنے آئیل فیلڈ کے پہلے کنویں سے تیل نکالنا شروع کیا تھا۔ اس وقت بحرین ابو صفا آئیل فیلڈ سے تیل کی سب سے زیادہ پیدا وار حاصل کرتا ہے اور اس میں سعودی عرب کی بھی شراکت داری ہے۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی ( بی این اے ) کے مطابق وزارت تیل بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں اس کنویں کی دریافت ، حجم اور ممکنہ پیداوار سے متعلق مزید معلومات فراہم کرے گی۔

اس نئے ذخیرے سے تیل اور گیس کی کافی مقدار حاصل ہونے کی پیشین گوئی کی گئی ہے اور بحرین کے موجودہ مختصر وسائل میں یہ ایک نمایاں اضافہ ہوگی۔

بحرین کے ولی عہد سلمان بن حمد آل خلیفہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ کمیٹی برائے قدرتی وسائل اور اقتصادی سکیورٹی نے ملک میں تیل کی اس نئی دریافت کا اعلان کیا ہے۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے بحرین کے تیل کے وزیر شیخ محمد بن خلیفہ آل خلیفہ نے کہا: ’’اس ذخیرے کی ابتدائی دریافت کے بعد پٹرولیم کی صنعت کے معروف کنسلٹنٹس ڈی گولیر اور میکناٹن (دیمک) نے تیل کی ساخت ، حجم اور وہاں سے تیل نکالنے کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے اور یہاں سے ایک طویل عرصے تک ٹھوس تیل اور گہری گیس نکالی جاسکتی ہے’’۔

بحرین کی آئیل اور گیس اتھارٹی نجی کمپنیوں سے مل کر تیل کی اس دریافت ، اس کے پیداواری حجم اور مارکیٹ میں اس کی قدر کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ سال بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے اعلیٰ کمیٹی برائے قدرتی وسائل اور اقتصادی سکیورٹی کو تیل اور گیس کی تلاش کا کام تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔اس کے بعد سے اس نے تیل کے دو بڑے ذخائر دریافت کیے ہیں۔