.

کویت میں مردہ پائی گئی فلپائنی گھریلو ملازمہ کے آجر میاں بیوی کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں ایک عدالت نے ایک اپارٹمنٹ کے فریزر میں مردہ پائی گئی فلپائنی گھریلو ملازمہ کے آجر میاں بیوی کو قصور وار قرار دے کر ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

شامی حکام نے مجرم قرار دیے گئے لبنانی شوہر نادر اعصام عساف اور اس کی شامی اہلیہ منی حسون کو فروری میں گرفتار کیا تھا اور انھوں نے نادر اعصام کو لبنان کے حوالے کر دیا تھا جبکہ اس کی شامی بیوی اس وقت دمشق ہی میں زیر حراست ہے اور دونوں ممالک نے اس جوڑے کو کویت کے حوالے نہیں کیا ہے۔

29 سالہ جوآنا ڈیما فیلس کی لاش 6 فروری کو کویت شہر کے علاقے حولی میں واقع ایک بے آباد اپارٹمنٹ سے ملی تھی۔ اس کی لاش مبینہ طور پر سوا ایک سال تک فریزر میں پڑی رہی تھی۔ اس کے خاندان کی درخواستوں کے باوجود فلپائنی وزارت خارجہ نے اس دوران میں اس کے بارے میں کوئی زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کی تھی اور اس کی تلاش میں کوئی مدد نہیں کی تھی۔

مقتولہ ڈیمافیلس 2014ء میں اس جوڑے کے ہاں کویت میں گھریلو کام کاج کے لیے آئی تھی۔اس کی لاش پر تشدد کے نشان بھی پائے گئے تھے ۔عساف اپنی بیوی اور دونوں بچوں سمیت نومبر 2016ء میں کویت سے را ہ فرار اختیار کر گیا تھا اور ان کے اپارٹمنٹ کے مالک نے فروری کے اوائل میں عدالت سے اجازت نامہ لے کر اس کو کھولا تھا اور اس کے فریزر سے فلپائنی ملازمہ کی لاش برآمد ہوئی تھی۔یہ ممکنہ طور پر نومبر 2016ء میں ہی اس میں منجمد کردی گئی تھی۔

فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ نے اس واقعے کے بعد کویت میں فلپائنی ورکروں کو بھیجنے پر عاید پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس پابندی کو دوسرے ممالک تک بھی توسیع دی جاسکتی ہے۔