.

یرغمال یمنیوں کی ماؤں نے حوثیوں کی عدالتی کارروائیاں "غیر قانونی" قرار دے دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر حراست یرغمال افراد کی ماؤں کی انجمن نے دارالحکومت صنعاء میں قید 36 افراد کے خلاف عدالتی کارروائی جاری رکھنے کی سخت مذمت کی ہے۔

انجمن کی جانب سے جاری بیان میں دانش وروں، اکیڈمکس اور طلبہ کے خلاف ان عدالتی کارروائیوں کو ڈھونگ اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور ان کو فوری طور پر روک دینے اور یرغمال اور لاپتا افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

انجمن کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مسلح حوثی ملیشیا گذشتہ برس اپریل کے اوائل سے خصوصی فوجداری عدالت میں یرغمال افراد کے خلاف ڈھونگ مقدمہ چلا رہی ہے، اس عدالت کا قیام یمن کے آئین اور بین الاقوامی منشوروں اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یمنی یرغمالیوں کی ماؤں کی انجمن نے گذشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ اِب صوبے میں باغیوں کی جیلوں میں خطرناک نوعیت کے جلدی اور وبائی امراض پھیل گئے ہیں۔ انجمن نے الزام عاید کیا کہ حوثیوں نے جیلوں میں قید کیے گئے افراد کی صحت اور طبّی حالت سے جان بوجھ کر غفلت برتی ہے۔

انجمن کے تازہ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اگر ان خلاف ورزیوں پر حرکت میں نہ آئیں تو جبری طور پر لاپتا ہونے والے افراد کے خاندانوں کو اندیشہ ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو کھو دیں گی۔

یمن میں گزشتہ تین برسوں کے دوران میں باغی حوثی ملیشیا نے اپنے مخالف ہزاروں کارکنان، سیاسی شخصیات، صحافیوں اور شہریوں کو اغوا کیا اور پھر انھیں اپنے عقوبت خانوں میں ڈال دیا۔ ان میں متعدد افراد وحشیانہ تشدد کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ دیگر افراد کو بھی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں واقع خفیہ حراستی مراکز اور جیلوں میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سامنا ہے۔