.

جاسوس کو زہر دینے میں برطانوی حکومت کا مفاد ہوسکتا ہے: روسی وزیر خارجہ

ماہرین اور متعدد ممالک کے لیڈر جرم سے متعلق برطانوی موقف پر سوال اٹھا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مارچ کے اوائل میں برطانیہ میں سابق ڈبل ایجنٹ کو زہر خورانی کےو اقعے میں خود برطانوی حکومت کا مفاد وابستہ ہوسکتا ہے اور اس نے بریگزٹ سے متعلق مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کیا ہوگا۔

سرگئی لاروف نے سوموار کے روز ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ یہ واقعہ برطانوی حکومت کے مفادات کا حامل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بریگزٹ سے متعلق اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور وہ خود ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سابق ڈبل ایجنٹ سرگئی سکریپال اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کا واقعہ برطانیہ کی خصوصی فورسز کے مفاد میں بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وہ قتل کے لائسنس کی حامل ہیں اور اپنی ان صلاحیتوں کے لیے معروف ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس واقعے کی کئی ایک اور بھی وجوہ ہوسکتی ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے بھی امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم تھریزا مے نے روس پر الزام عاید کیا تھا کہ مسٹر سکریپال اور ان کی بیٹی کو روس کے تیارکردہ فوجی درجے کے اعصابی ایجنٹ نوویچوک کے ذریعے زہر دیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے دو امکان ہوسکتے ہیں ،ایک یہ کہ روسی ریاست نے براہ راست ہمارے ملک میں یہ اقدام کیا ہے۔دوسرا یہ کہ روسی حکومت فوجی درجے کے اس اعصابی ایجنٹ پر کنٹرول کھو بیٹھی ہو اور وہ دوسروں کے ہاتھ لگ گیا ہو۔

لیکن روس نے اس الزام کی تردید کی تھی اور برطانوی حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ سابق جاسوس پر حملے کے لیے ا ستعمال کیے گئے اعصابی ایجنٹ تک رسائی دے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ ’’سنجیدہ ماہرین ‘‘ اور بہت سے ممالک کے لیڈروں نے بھی جرم سے متعلق برطانوی مؤقف کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا :’’برطانیہ ان سوالوں سے مُنھ نہیں چرا سکتا کیونکہ یہ پہلے ہی بہت واضح ہیں اور اتنے واضح ہیں کہ ہمارے برطانوی ساتھی حقیقت کا احساس ہی کھو بیٹھے ہیں ‘‘۔

انھوں نے یہ شکایت بھی کہ برطانوی حکام نے ابھی تک ’’ ہمارے شہریوں‘‘ تک قونصلر رسائی نہیں دی ہے اور یولیا سکریپال کی حالت بہتر ہونے کے باوجود صورت حال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سرگئی سکریپال بھی اس مثال کی پیروی کریں گے اور ان کی حالت بھی بہتر ہوجائے گی۔

لاروف نے اس امر کی بھی تردید کی ہے کہ یہ حملہ کوئی بہت پیچیدہ اور خفیہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ’’ اگر ایسا ہوتا تو متاثرین فوری طور پر مرچکے ہوتے اور جہاں تک میں سمجھا ہوں ایسے پراسرار اور پیچیدہ حملوں میں فوری طور پر موت واقع ہوجاتی ہے‘‘۔

یادرہے کہ برطانیہ کے شہر سالسبری کے نواح سے 4 مارچ کو مسٹر سکریپال اور ان کی بیٹی بے ہوشی کی حالت میں ملے تھے۔اس واقعے کے بعد برطانیہ نے روس کے 23 سفارت کاروں کو بے دخل کردیا تھا۔اس کے جواب میں روس نے بھی برطانوی سفارت کاروں کو نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ پھر یہ سرد جنگ دوسرے ممالک تک پھیل گئی تھی اور امریکا سمیت برطانیہ کے بہت سے اتحادی ممالک نے روسی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ قرار دے کر نکال دیا تھا۔