.

جیسے کو تیسا: چین نے شراب، خنزیر سمیت 128 امریکی مصنوعات پر اضافی محصول لگا دیا

چین نے اگر امریکی ٹکنالوجی کمپنی "ایپل" پر محصول لگایا تو اس کی مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین نے امریکا سے درآمد کی جانے والی 128 اشیا پر 25 فیصد تک محصول ‏عائد کر دیا ہے جن میں شراب اور خنزیر کا گوشت بھی شامل ہے۔ چین نے درآمدی محصول میں اضافہ صدر ٹرمپ کی جانب سے سٹیل اور المونیم کی امریکا میں درآمدات پر محصول کے اضافے کے جواب کیا ہے۔

مبصرین سمجھتے ہیں کہ محصول میں اضافے سے پیر کو تین ارب ڈالر کی درآمدات متاثر ہوں گی۔ چین نے کہا ہے کہ یہ اقدام 'چینی مفادات کے تحفظ' اور امریکا کے نئے محصول سے ہونے والے نقصانات کے سلسلے میں 'توازن پیدا کرنے' کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل چین نے کہا تھا کہ وہ تجارتی جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر ان کی معیشت متاثر ہوتی ہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔

بہر حال صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا تھا کہ 'تجارتی جنگیں اچھی ہوتی ہیں' اور امریکا کے لیے یہ جنگ جیتنا آسان ہو گا۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام نے پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کے چینی درآمدات پر محصول لگانے کے منصوبے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ چین میں تجارت کے ناجائز عمل کے جواب میں کیے گئے اقدام ہیں کیونکہ اس سے امریکی کمپنیاں متاثر ہوتی ہیں۔

امریکا سے آنے والے سکریپ المونیم اور خنزیر کے فروزن گوشت پر حالیہ محصول کے علاوہ اضافی 25 فیصد محصول لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خشک میوہ جات، تازہ اور خشک پھل، جنسینگ اور شراب کے محصول پر 15 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ سٹیل کے لپٹے ہوئے سریے یا سلاخوں پر بھی 15 فیصد محصول کا اضافہ ہوگا۔

چین نے کہا ہے کہ نئے محصول صدر ٹرمپ کے ایلومینیم اور سٹیل کی درآمدات پر محصول میں اضافے کے جواب میں ہیں۔ ان کے علاوہ آئندہ مزید محصول میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ 22 مارچ کو امریکا نے کہ تھا کہ وہ 60 ارب چینی درآمدات پر محصول لگانے کا منصوبہ رکھتا ہے اور وہ امریکا میں چینی سرمایہ کاری کو محدود کرنا چاہتا ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ وہ ایسا چین کی جانب سے مبینہ دانشورانہ املاک کی چوری کے جواب میں کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ چین کی سرکاری سربراہی والی معیشت کی جانب سے غیر مساوی مقابلے کے جواب میں یہ اقدام کر رہا ہے۔ ابھی یہ سامنے آنا باقی ہے کہ کیا امریکا کی اس ابتدائی چال کے جواب میں چین مزید سخت اقدام کرے گا۔

اصولی طور پر چین ایپل جیسی امریکی ٹکنالوجی کمپنی پر محصول لگا سکتا ہے۔ اور ایسے اقدام کے نتیجے میں کمپنی اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔