.

منبج میں ترک فوج کے مقابلے کے لیے 300 امریکی تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک فوج کی ممکنہ طورپر شمالی شام کے کرد اکثریتی علاقے منبج میں آمد کے پیش نظر وہاں پر تعینات امریکی فوج نے بھی دفاعی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ تمام فوجی کیمپوں اور چوکیوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے اورساتھ ہی ساتھ شہر میں اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق منبج میں 300 امریکی فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ آرمرڈ گاڑیاں اوربھاری ہتھیار بھی پہنچائے گئےہیں۔ یہ ہتھیار اور فوجی شمالی شہر حلب کے صرین قصبے میں قائم ایک فوجی اڈے سے وہاں منتقل کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ منبج میں امریکی فوج کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں ترکی نے عفرین شہر کے بعد منبج میں بھی فوج داخل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ عفرین میں ترکی نے جنوری میں ’شاخ زیتون‘ کےعنوان سے کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔

عفرین کے برعکس منبج میں امریکی فوجی اڈہ اور امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جو ترک فوج کے لیے ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔

بدھ کے روز ترکی کی قومی سلامتی کمیٹی نے کہا تھا کہ اگر منبج سے کرد عسکریت پسند نکل نہیں جاتے تو ترک فوج کو اس شہر میں داخل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی دھمکی دی تھی کہ وہ شام میں کردوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو مزید وسعت دیں گے اور عفرین کے بعد دوسرے شامی شہروں میں بھی فوج داخل کی جائے گی۔

ادھر فرانس نے شمالی شام میں کسی نئی فوجی آپریشن کے امکان کو رد کردیا ہے۔ پیرس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی شام میں داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے علاوہ کسی دوسری فوجی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں۔