.

ناکارہ چینی خلائی سٹیشن کا ملبہ بالآخر جنوبی بحرالکاہل میں گرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چینی اور امریکی خلائی اسٹیشن کا کہنا ہے کہ اسکا ناکارہ خلائی اسٹیشن زمین کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی بکھر گیا اور ٹکڑے ہوکر جنوبی بحرالکاہل میں گر گیا۔ یہ خلائی اسٹیشن اتوار اور پیر کی درمیانی رات میں گرا۔ آٹھ ٹن وزنی اس خلائی گاڑی کو 2011ء میں مدار میں چھوڑا گیا تھا لیکن 2016ء میں اس نے کام کرنا بند کر دیا۔

اس سے قبل چینی خلائی اسٹیشن کے سائنسدانوں نے کہا تھا کہ 8 ٹن وزنی یہ خلائی جہاز زمین پر گرا بھی تو تباہی وبربادی کے بجائے دنیا والوں کو ایک خوبصورت منظر دیکھنے کا موقع دے گا اور لگے گا کہ وہ کہکشاں ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور یہ منظر ایسا ہو گا کہ لوگ اسے برسوں یاد رکھیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 8 ٹن وزنی خلائی جہاز تیانگن ون اتوار سے پیر کے درمیان کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ تاہم موسمی تبدیلی اس کے گرنے کے وقت میں کمی بیشی کر سکتی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اسے زمین پر گرنے سے قبل ہی تباہ کر دیا جانا چاہئے لیکن بالفرض محال یہ گر بھی گیا تو اس سے نقصان نہیں ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق اس خلائی جہاز کو کنٹرول کرنے والا زمینی عملہ زمین کی طرف آنے والے اس جہاز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ 8 ٹن وزنی تنانگن ون بنیادی طور پر خلائی لیباریٹری ہے جس کا سائز سکول بس جتنا ہے۔