.

’’قطری عہدہ دار نے داعش کو موصل پر قبضے کی کن الفاظ میں مبارک باد دی تھی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری حکومت کے ایک عہدہ دار نے 2014ء میں داعش کے عراق کے شمالی شہر موصل پر قبضے کے وقت ٹویٹر پر باضابطہ طور پر مبارک باد پیش کی تھی۔اس بات کا انکشاف حال ہی میں دوبارہ منظرعام پر آنے والے ٹویٹس سے ہوا ہے۔

داعش اور جہادیوں کی تعریف کرنے والے یہ قطری عہدہ دار حمد لحدان المہندی ہیں ۔وہ قطر کی سنٹرل میونسپل کونسل کے چئیرمین ہیں اور ماضی میں قطر اولمپک کمیٹی کے سابق ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔انھوں نے ٹویٹر پر اپنی ایک پوسٹ میں داعش کو انقلابی قرار دیا تھا۔

ان کی 2014ء کی اس ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی تھی اور اس پر یہ لکھا تھا’’ عراق کے شہر موصل کی افطار سے قبل کی ایک تصویر،عراق میں انقلابیوں کی حکومت نے موصل کو ایران کی گرفت سے واپس کھینچ لیا ہے‘‘۔

اس پوسٹ سے چند روز قبل ہی ابراہیم البدری المعروف ابو بکر البغدادی پہلے سے ریکارڈ ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔ داعش کی جانب سے انٹر نیٹ پر جاری کردہ اس ویڈیو میں وہ موصل کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہے تھے اور انھوں نے سیاہ چغہ اور پگڑی پہن رکھی تھی۔انھوں نے اس خطےم میں داعش کی خود ساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا:’’ مجھے آپ کا حکمراں منتخب کر لیا گیا ہے۔میں آپ سے بہتر ہوں اور نہ کسی سے برتر ہوں ۔اگر آپ مجھے درست راستے پر دیکھیں تو میری حمایت کریں ۔اگر غلط راہ پر دیکھیں تو مجھے نیک مشورہ دیں ۔اگر میں اللہ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کریں‘‘۔

حمد لحدان المہندی نے 16 جون 2014ء کو داعش کے عراق کے شمالی شہر تلعفر میں ایک جیل پر حملے پر بھی خوشی کا اظہار کیا تھا۔اس حملے میں داعش کے جنگجوؤں نے القاعدہ کے سزا یافتہ ارکان سمیت سیکڑوں قیدیوں کو رہا کرا لیا تھا۔

انھوں نے لکھا :’’ الحمد للہ باغیوں نے تلعفر کی جیل سے 716 سُنیوں کو رہا کرا لیا ہے۔ان میں 52 خواتین اور ایک شیر خوار سمیت چار بچے بھی شامل ہیں‘‘۔

اس قطری عہدہ دار نے بعد میں اکتوبر 2016ء میں عراقی حکومت کی موصل کو بازیاب کرانے کے لیے جنگ کی بھی مخالفت کی تھی۔جب یہ خبر سامنے آئی تھی کہ عراقی فورسز کے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ اہلکار داعش کے خلاف اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں تو انھوں نے طنزیہ انداز میں ٹویٹر پر لکھا:’’ وہ موصل سے بھی زیادہ بڑی چیز کی تیاری کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے نومبر 2013ء میں ایک ٹویٹ میں قطر سے تعلق رکھنے والے داعش کے ایک ’’ شہید ‘‘اور جہادی کو بھی مبارک باد پیش کی تھی۔انھوں نے لکھاتھا:’’قطری جہادی حمد بن مقلد المریخی دمشق ، شام میں ایک کارروائی کے دوران میں شہید ہوگئے ہیں۔ان کا تعلق قطر کے الخور قبیلے سے تھا‘‘۔

المریخی نے دمشق کے مرجح چوک میں خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا ۔اس سے پہلے داعش کے اس بمبار نے خود ہی ٹویٹر پر اپنے اس حملے کی اطلاع دے دی تھی:’’صبح میں ایک اچھے نصب العین کے لیے ایک فدائی کارروائی کروں گا‘‘۔

ایک اور پیغام میں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے یہ اپنے خاندان کو دیا تھا ،مریخی نے لکھا تھا:’’ ابو یوسف ہم شدید بمباری کی زد میں ہیں ، میرا فون کام نہیں کررہا ہے ۔کل صبح ایک بہت مشکل معرکہ درپیش ہوگا۔اگر میں شہید ہوجاؤں تو پھر آپ سے جنّت میں ملاقات ہوگی ۔میں جنّت میں حُوروں کے جھرمٹ میں ہوں گا۔ہاہاہا ۔میری امی سے کہہ دیجیے میں ٹھیک ہوں‘‘۔

حمد لحدان المہندی نے لیبیا میں رونما ہونے والے واقعات کے دوران میں بھی داعش کی حمایت جاری رکھی تھی تا آنکہ اس جنگجو گروپ نے 10 اپریل 2012ء کو شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اپنی خود ساختہ خلافت قائم کرلی تھی۔

انھوں نے یہ ٹویٹ کی تھی:’’ حلب مجھے بنغازی کی یاد دلاتا ہے۔ قذافی کی ملیشیاؤں کی بنغازی میں آمد ہوئی تھی اور انھوں نے باغیوں کے مضبوط گڑھ کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کردی تھی مگر وہ (باغی) رُکے نہیں تھے اور طرابلس پہنچ گئے تھے‘‘۔

المہندی نے شام اور عراق میں جنگجوؤں کے لیے قطر چیرٹی کے ذریعے چندہ جمع کرنے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں چندے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا:’’ آپ اب شام میں اپنے بھائیوں کو قطر چیرٹی کی ویب سائٹ کے ذریعے عطیات بھیج سکتے ہیں‘‘۔اس قطری خیراتی ادارے کا نام سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے دہشت گرد افراد اور تنظیموں کی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔