.

خواتین کے حقوق اور سرپرستی کے قوانین سے متعلق سعودی ولی عہد کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ دینِ اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ انہوں واضح کیا کہ سعودی عرب کی نصف کے قریب آبادی خواتین پر مشتمل ہے لہذا وہ خواتین کو سپورٹ کرتے ہیں۔ بن سلمان کے مطابق پبلک سیکٹر میں خواتین کو مردوں کے برابر مالی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے اور یہ ہی ضابطہ پرائیوٹ سیکٹر پر بھی لاگو کیا جائے گا۔

امریکی جریدے The Atlantic کے ایڈیٹر ان چیف جیفری گولڈبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں بن سلمان نے کہا کہ "1979ء سے پہلے سعودی عرب میں سرپرستی کے سماجی رواج موجود تھے تاہم مملکت میں سرپرستی کے قوانین نہیں تھے۔ میں نبی علیہ الصلات والسلام کے دور جتنی پرانی بات نہیں کر رہا بلکہ 1960ء کی دہائی میں خواتین اپنے مرد سرپرستوں کے ساتھ سفر کرنے کی پابند نہیں تھیں (اگر سفر محفوظ نوعیت کا ہو)۔ البتہ اب ایسا ہو رہا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ اس امر کے حل کا کوئی ایسا طریقہ کیا جائے جس سے خاندان اور ثقافت کو کوئی ضرر نہ پہنچے"۔

مملکت میں سرپرستی کے قوانین ختم کر دیے جانے کے امکان کے حوالے سے سعودی ولی عہد نے کہا کہ معاشرے میں بعض خاندان اپنی خواتین پر قطعی اختیار چاہتے ہیں جب کہ بعض ایسے ہیں جو اپنی خواتین کو اُن کی چاہت سے زیادہ آزادی دینا پسند کرتے ہیں، لہذا "اگر میں اس کا جواب ہاں میں دوں گا تو اس کا مطلب ہو گا کہ اُن خاندان کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہوں جو اپنی بیٹیوں کو آزادی نہیں دینا چاہتے"۔

بن سلمان نے مزید کہا کہ "سعودی عوام اپنی شناخت نہیں کھونا چاہتے۔ یہ درست ہے کہ ہم عالمی ثقافت کا حصّہ بننا چاہتے ہیں لیکن ہم اپنی ثقافت کو عالمی تشخص کے ساتھ اس طرح ملانا چاہتے ہیں کہ ہماری ثقافت متاثر نہ ہو"۔