.

الجزائر شیعہ یا اِخوانی ریاست ہرگز نہیں بنے گی: وزیرِ مذہبی امور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے مذہبی امور کے وزیر محمد عیسی نے خبردار کیا ہے کہ شیعہ فرقوں کی جانب سے ان کے ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم اور عدم استحکام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جیسا کہ یمن اور عراق میں اس وقت ہو رہا ہے۔

محمد عیسی نے اس امر کو مسترد کر دیا کہ ان کے ملک میں اخوانی نظریات پروان چڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ الجزائر میں اخوانی افکار زیادہ پرانے نہیں اور یہ اُس مذہبی فکر کی جگہ نہیں لے سکتے جس پر عوام صدیوں سے عمل پیرا ہیں۔

سال 2017ء کے اواخر میں مذکورہ وزیر نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں شیعہ مذہب کی ترویج کرنے والے سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا جو عراق سے یہ مذہب اختیار کر کے واپس الجزائر پہنچے تھے۔

وزیر مذہبی امور نے مقامی میڈیا کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ حکام اُن تمام مذہبی فرقوں کی کڑی نگرانی کرنے پر قادر ہے جو الجزائر کے لوگوں کے یکساں دینی مرجع کی خلاف ورزی پر کام کر رہے ہیں۔ الجزائر میں سرکاری طور پر مالکی مسلک نافذ ہے"۔

الجزائری وزیر نے باور کرایا کہ "حال ہی میں دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر 400 شیعوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی اور سکیورٹی ادارے شیعیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تیار ہیں"۔