حوثی ملیشیا خواتین اور بچوں کو محاذوں کی بھینٹ چڑھا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے صوبے صعدہ میں سرکاری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عبید الاثلہ نے باور کرایا ہے کہ حوثیوں کے سب سے پہلے گڑھ کے محاصرے اور یمنی فوج کے مران میں باغیوں کے سرغنے کے آبائی علاقے کے نزدیک پہنچنے کے نتیجے میں باغیوں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

الاثلہ نے العربیہ کے نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ صعدہ میں مردوں اور بچوں کی بھرتیوں کے بعد اب حوثی باغی خواتین کو بھی دشمن سے لڑنے کا حکم دے رہے ہیں۔ یمنی کمانڈر کے مطابق یہ پیش رفت یمنی فوج کی عرب اتحاد کی معاونت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

صعدہ کے کمانڈر نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی شب فوج نے كتاف ، رازح اور الظاہر کے محاذوں پر نمایاں پیش قدمی کی۔ اس دوران حوثیوں سے وسیع پہاڑی علاقے کا کنٹرول واپس چھین لیا گیا۔ الاثلہ کے مطابق گزشتہ دو روز میں حوثیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور 350 کے قریب باغی ہلاک اور زخمی ہوئے اور متعدد قیدی بنا لیے گئے۔ اس کے علاوہ حوثیوں کے قبضے سے بھاری ، درمیانے اور چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ گولہ بارود کی بڑی مقدار بھی برآمد کر لی گئی۔

ادھر سعودی عرب کے زیر قیادت عرب عسکری اتحاد کے طیاروں نے الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر واقع کیمپ کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اتحادی طیاروں نے 5 فوجی گاڑیاں اور باغیوں کے لیے البیضاء صوبے سے آنے والی کمک کو تباہ کر دیا۔

اتحادی طیاروں نے سعودی عرب کے صوبے جازان کے مقابل علاقے میں بھی حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ صعدہ صوبے کے مختلف علاقوں میں بھی اتحادی طیاروں نے کثیر پروازیں کیں۔ ان میں نمایاں ترین علاقے البقع ، باقم اور الظاہر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں