.

حوثی ملیشیا خواتین اور بچوں کو محاذوں کی بھینٹ چڑھا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے صعدہ میں سرکاری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عبید الاثلہ نے باور کرایا ہے کہ حوثیوں کے سب سے پہلے گڑھ کے محاصرے اور یمنی فوج کے مران میں باغیوں کے سرغنے کے آبائی علاقے کے نزدیک پہنچنے کے نتیجے میں باغیوں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

الاثلہ نے العربیہ کے نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ صعدہ میں مردوں اور بچوں کی بھرتیوں کے بعد اب حوثی باغی خواتین کو بھی دشمن سے لڑنے کا حکم دے رہے ہیں۔ یمنی کمانڈر کے مطابق یہ پیش رفت یمنی فوج کی عرب اتحاد کی معاونت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

صعدہ کے کمانڈر نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی شب فوج نے كتاف ، رازح اور الظاہر کے محاذوں پر نمایاں پیش قدمی کی۔ اس دوران حوثیوں سے وسیع پہاڑی علاقے کا کنٹرول واپس چھین لیا گیا۔ الاثلہ کے مطابق گزشتہ دو روز میں حوثیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور 350 کے قریب باغی ہلاک اور زخمی ہوئے اور متعدد قیدی بنا لیے گئے۔ اس کے علاوہ حوثیوں کے قبضے سے بھاری ، درمیانے اور چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ گولہ بارود کی بڑی مقدار بھی برآمد کر لی گئی۔

ادھر سعودی عرب کے زیر قیادت عرب عسکری اتحاد کے طیاروں نے الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر واقع کیمپ کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اتحادی طیاروں نے 5 فوجی گاڑیاں اور باغیوں کے لیے البیضاء صوبے سے آنے والی کمک کو تباہ کر دیا۔

اتحادی طیاروں نے سعودی عرب کے صوبے جازان کے مقابل علاقے میں بھی حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ صعدہ صوبے کے مختلف علاقوں میں بھی اتحادی طیاروں نے کثیر پروازیں کیں۔ ان میں نمایاں ترین علاقے البقع ، باقم اور الظاہر ہیں۔