.

شام کے مستقبل پر بات چیت کے لیے ترکی ، روس اور ایران کا سربراہ اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں آج بدھ کے روز شام کے مستقبل کے حوالے سے ایک سہ فریقی سربراہ اجلاس ہو رہا ہے۔ اجلاس میں ترکی، ایران اور روس بحران کے پر امن حل کے طریقوں پر غور کریں گے۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادیمر پوتین نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا ملک شام کی سیادت برقرار رکھنے اور دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ترکی کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

تین ملکی سربراہ اجلاس میں حسب معمول شامی حکومت اور اپوزیشن کی شرکت کے بغیر شام کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔ ایک روسی عہدے دار کے مطابق انقرہ میں آج کی ملاقات میں اولین ترجیح شام کے نئے آئین کے لیے ایک دستور ساز کمیٹی کے کام کا آغاز ہے۔

ادھر شام میں روسی فوج نے اعلان کیا ہے کہ مشرقی غوطہ کے قصبے دوما سے جیش الاسلام تنظیم کے 1100 ارکان اپنے اہل خانہ سمیت نکل آئے ہیں۔ شامی حکومت کے میڈیا کے مطابق ان افراد کو لے جانے والی بسوں نے جرابلس کا رخ کیا جہاں ترکی کی فوج اور اس کے حلیف شامی اپوزیشن گروپوں کا کنٹرول ہے۔

روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے عربی روزنامے "الحياة" کو بتایا کہ آئین تیار کرنے والی کمیٹی پر کام کے علاوہ نئی حکومت ، انتخابات ، دہشت گردی ، سکیورٹی ادارے اور گرفتار شدگان کی رہائی سے متعلق امور بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اوشاکوف کے مطابق ترکی کی جانب سے عبوری مرحلے میں بشار الاسد کی موجودگی کی مخالفت کے بعد ایسا لگتا ہے کہ روس کا مشن مشکل نہیں ہو گا۔

آج کی انقرہ ملاقات میں اضافی اقدامات بھی وضع کیے جائیں گے جن کا مقصد لڑائی روک دینے کے نظام کو مضبوط بنانا ہے تا کہ سیف زونز پر کام کو یقینی بنایا جا سکے۔

شامی حکومت کی غیر موجودگی میں ہونے والے سہ فریقی سربراہ اجلاس میں آئینی اصلاح کو مؤثر بنانے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا جس میں اقوام متحدہ کا بھی حصّہ ہو گا۔