.

سوشل میڈیا کی آڑ میں شہریوں کی گرفتاریاں ناقابل قبول ہیں:احمدی نژاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کی آڑ میں شہریوں کو گرفتار کرنے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کی پالیسی کو ایک بار ہدف تنقید بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سوشل میڈٰیا پر آزادانہ رائے کے اظہار کے حق کو استعمال کرنے والے شہریوں کو بھی گرفتار کرکے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک ریکارڈڈ بیان میں احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ حکومت شہریوں کی سوشل میڈیا پر اظہار رائے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر انہیں حراست میں لے رہی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ یہ کیسی قومی سلامتی ہے جو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر شہریوں کی آزادانہ اظہار رائے سے بھی خطرے میں پڑ رہی ہے؟۔

انہوں نے گرفتار کیے گئے افراد کو بنیادی حقوق فراہم نہ کرنے پر بھی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ کسی قیدی کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے اپنے دفاع کا حق تک نہیں دیا جا رہا ہے اور دوسری جانب سوشل میڈیا پر کسی کا ایک جملہ بھی پوری ریاست پر بھاری ثابت ہو رہا ہے۔

احمدی نژاد نے عدلیہ کی جانب سے شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال میں ملوث ہونے کے اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صادق آملی لاری جانی کی زیرنگرانی سپریم جوڈیشل کونسل حالیہ عرصے میں پرامن احتجاجی مظاہروں کو کچلنے میں ملوث ہے۔ جوڈیشل انتظامیہ کا مظاہرین کے حوالے سے طرز عمل بزدلانہ شرمناک ہے۔

سابق ایرانی صدر نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ موجودہ صورت حال جلد ختم ہوگی۔ حقیقی بہار آنے کو ہے۔ موجودہ حالات زیادہ عرصہ نہیں چلیں گے۔ حکومت کو عوام کے حقوق کے لیے اپنی پالیسیی بدلنا ہوگی۔