.

پاسداران انقلاب ایران نے بحرینی بنک کے ذریعے کیسے اربوں ڈالرز اسمگل کر لیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے ایک بنک کے ایرانی مالکان نے نیدرلینڈز میں قائم ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت کو منامہ کے بارے میں ایک درخواست دائر کی ہے ۔بحرین نے اس کے جواب میں عدالت میں دستاویزی ثبوت پیش کیے ہیں جس سے بات ثابت ہوتی ہے کہ اس مستقبل بنک کی انتظامیہ کی رضا مندی سے مشتبہ کھاتوں کے ذریعے ایران یا ایرانی اداروں کے لیے سات ارب ڈالرز اسمگل کیے گئے تھے۔

مستقبل بنک 2015ء میں بند ہوگیا تھا ۔اس کے خلاف بحرین کی جانب سے فراہم کردہ دستاویز ات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ہاتھ بھی لگ گئی ہیں۔ان میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک عشرے تک اس بنک کے ذریعے اربوں ڈالرز اسمگل کیے تھے۔

بحرین کے اہلی یونائیٹڈ بنک اور ایران کے بنک ملی اور بنک صدرات نے 2014ء میں مشترکہ طور پر مستقبل بنک قائم کیا تھا۔اس پر پہلے بھی ایران پر عاید تجارتی پابندیوں سے بچنے کے لیے اس کی خدمت گزاری کا الزام عاید کیا گیا تھا ۔ان الزامات کے پیش نظر ہی امریکا اور یورپی یونین نے اس کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ اس تمام معاملے میں سب سے مشکوک الزام بحرین کی حزب اختلاف سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک شیعہ عالم سے متعلق ہے۔بحرینی حکام نے مستقبل بنک کو اس شیعہ عالم عیسیٰ قاسم کے کئی سا ل تک کروڑوں ڈالرز جمع کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس میں کچھ رقم بحرین میں کام کرنے والے ایک خیراتی ادارے کو بھی دی گئی تھی لیکن دراصل وہ ادارہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث تھا۔

تب اس بنک کے حسابات کی جانچ پرتال سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ سیکڑوں کیسوں میں بنک کو رقوم کی منتقلی کے وقت یہ خاص ہدایات دی جاتی تھیں کہ ایران اور ایرانی بنکوں کے کوڈ کا کوئی حوالہ ترسیل کے عمل میں نہیں آنا چاہیے۔

اس بنک میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت میں ملوث سیکڑوں سزایافتہ افراد کے بھی کھاتے کھولے گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب ایران کے فرنٹ کے طور پر کام کرنے والی بعض کمپنیوں کو گھوسٹ قرضے بھی دیے جاتے رہے تھے۔

اس بنک نے 2004ء اور 2015ء کے درمیان کم سے کم سات ارب ڈالرز منتقلی کی تفصیل کو بھی چھپایا تھا۔یہی وہ وقت تھا جب ایرانی بنک عالمی پابندیوں کا شکار تھے اور وہ بین الاقوامی بنک کاری نظام سے کوئی لین دین نہیں کرسکتے تھے۔

رپورٹ میں مستقبل بنک اور دوسرے بنکوں کے درمیان رقوم کی منتقلی کے وقت ایک منظم حربے ’’وائر اسٹرپ‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے ۔اس کے ذریعے جان بوجھ کر شناخت کو پوشیدہ رکھا جاتا تھا یا چھپا دیا جاتا تھا۔آڈیٹروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ مواقع کا سراغ لگایا تھا جب ایران سے رقوم کی آمد یا اس کو منتقلی کے وقت بنک نے اس وائر اسٹرپ کے حربے کا استعمال کیا تھا۔