’’تہمت زدہ‘‘ پروفیسر طارق رمضان نے عورت کو خاموش رہنے کے لیے رقم دی تھی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فرانس میں عصمت ریزی اور اخلاق باختگی کے مقدمے میں گرفتار معروف اسلامی اسکالر پروفیسر طارق رمضان کے بارے میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے اور انھوں نے مبینہ طور پر 2015ء میں ایک عورت کو اپنے تعلق کی نسبت سے خاموش رہنے کے لیے رقم ادا کی تھی۔

بیلجیئم کی ایک عدالت کے جج لک ہینارٹ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ 55 سالہ طارق رمضان نے مراکش نژاد بیلجیئن عورت کو 27 ہزار یورو (33 ہزار ڈالرز) ادا کیے تھے اور اس سے یہ کہا تھا کہ وہ دونوں کے تعلق کے حوالے سے آن لائن کوئی تفصیل پوسٹ کرنے کا سلسلہ بند کردیں۔

پروفیسر طارق رمضان کو فرانس کی ایک عدالت کے حکم پر فروری میں دو مسلم عورتوں کی عصمت ریزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور و ہ اس وقت سے پیرس کے نواح میں ایک جیل میں بند ہیں۔اس دوران میں ایک تیسری عورت نے بھی ان پر عصمت ریزی کے الزامات عاید کیے ہیں لیکن وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔

فرانسیسی ویب سائٹ میڈیا پارٹ کے مطابق جج ہینارٹ کے بہ قول برسلز میں پروفیسر اور اس عورت ماجدہ برنوسی کے درمیان ایک تصفیہ طے پایا تھا۔اس عورت نے پروفیسر کے خلاف جنسی حملے کا تو الزام عاید نہیں کیا تھا لیکن یہ کہا تھا کہ انھوں نے اس کو نفسیاتی عارضے میں مبتلا کردیا ہے۔

ان دونوں کے درمیان طے شدہ تصفیے کے مطابق ماجدہ برنوسی نے مذکورہ بالا رقم کے عوض اپنی آن لائن پوسٹوں کو حذف کرنے سے اتفاق کیا تھا اور نئی پوسٹیں شائع نہ کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔برنوسی نے پروفیسر طارق رمضان اور ان کے خاندان کو آیندہ دھمکی آمیز اور جارحانہ پیغامات بھی نہ بھیجنے سے اتفاق کیا تھا۔

مصری نژاد اسلامی اسکالر طارق رمضان کے خلاف ایک سیکولر لبرل خاتون کارکن ہند ہ عیاری نے اکتوبر 2017ء میں سب سے پہلے ایک درخواست دائر کی تھی اور ان پر جنسی حملے ، تشدد ،ہراسیت اور عصمت ریزی کا الزام عاید کیا تھا۔

انھوں نے اپنے خلاف فرانسیسی مصنفہ ہندہ عیاری کے عاید کردہ ان سنگین الزامات کی تردید کی تھی اور انھیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ انھوں نے اس عورت کے خلاف ہتک ِ عزت کا مقدمہ چلانے کی بھی دھمکی دی تھی۔

ان کے خلاف فرانس کی ایک عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کی جارہی ہے۔ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف الزامات عاید کرنے والی دونوں عورتوں کے بیانات میں تضاد ہے اور ان کی کہانیوں میں کوئی تسلسل نہیں ہے۔

طارق رمضان مصر کی قدیم مذہبی وسیاسی جماعت (اب سرکاری طور پر کالعدم) الاخوان المسلمون کے بانی سید حسن البنا مرحوم کے پوتے ہیں۔وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ انتھونی کالج کے شعبہ مشرقی علوم میں معاصر اسلامی مطالعات کے پروفیسر تھے لیکن گذشتہ سال نومبر سے وہ چھٹیوں پر ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن اور سلفی اسلام کو چھوڑ کر’’ آزاد‘‘ بننے والی ہندہ عیاری پہلے حجاب اوڑھتی رہی ہیں ۔پھر انھوں نے حجاب کو خیرباد کہہ کر ’’آزاد‘‘ ہونے کا فیصلہ کیا تھا او ر ’’ میں نے آزاد ہونے کا انتخاب کیا‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔یہ کتاب نومبر 2016ء میں شائع ہوئی تھی۔

اس میں انھوں نے زبیر نامی ایک شخص کا ذکر کیا تھا اور وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے ایک ہوٹل میں زبیر سے ملاقات کی تھی۔ان صاحب نے وہاں ایک لیکچر دیا تھا اور وہ سننے کے بعد وہ ملاقات کے لیے گئی تھیں۔ ہوٹل میں اس عورت کے بہ قول’’ زبیر کے خراب نیت سے آگے بڑھنے پر وہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔اس پر وہ صاحب چلّائے، مجھے برا بھلا کہا ،تھپڑ رسید کردیا تھا اور تشدد آمیز سلوک کیا تھا۔جب میں پیچھے ہٹ گئی اور ڈر گئی تو ان صاحب نے پیار جتلا کر بھی آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی‘‘۔

ہندہ نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا:’’ یہ زبیر نامی شخص کوئی اور نہیں ،طارق رمضان ہیں‘‘۔اس عورت کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی مؤکلہ نے پہلے خوف کی وجہ سے اس مبینہ جنسی حملے کی اطلاع نہیں دی تھی اور اس نے ایک طویل عرصے کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کو رپورٹ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں