.

ایران اور انتہا پسندوں کے خطے میں عزائم ناکام بنا دیے: ولی عہد

سعودی ولی عہد کا امریکی جریدے ’ٹائمز‘ کو تفصیلی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی جریدے ’ٹائمز‘ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے مملکت کے حوالے سے اپنے منصوبوں اور خواہشات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں ایران اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ولی عہد نے کہا کہ امریکا پوری دنیا میں سعودی عرب کا سب سے قدیم حلیف ہے اور ہم مشرق وسطیٰ میں امریکا کے قدیم حلیف ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تجارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔

اپنے انٹرویو میں شہزادہ محمد بن سلمان نے عالمی دہشت گردی اور دہشت گردی کی جنگ میں سعودی عرب کی خدمات کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دہشت گردی کا شکار ہونے والے ممالک میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو فروغ دینے کی مذموم کوشش کر رہا ہے کہ مگر ہم نے ایرانی اثرو نفوذ قائم کرنے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

یمن کے بارے میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ مملکت کا پڑوسی ملک یمن کے بارے میں موقف واضح ہے۔ ہم یمنی قوم اور حکومت دونوں کی مدد کر رہے ہیں۔ یمن میں ایک طرف ایران اور حزب اللہ کی آئیڈیا لوجی ہے اور دوسری طرف ہمارا نظریہ ہے۔ ہم نے یمن میں ایرانی عزائم کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔

سعودی عرب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مملکت نے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ہم سعودی عرب میں شمسی توانائی کا سب سے بڑا پروجیکٹ لانچ کر رہے ہیں۔

امریکا کے ساتھ تعلقات کے باب میں سوال کے جواب میں ولی عہد نے کہا کہ ہمارے گہرے تعلقات نہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہیں بلکہ ہم ان کی انتظامیہ کے تمام عہدیداروں کے ساتھ بہت قریب ہیں۔ سنہ 2016ء میں ہم نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ بھی مل کر کام کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم ایک ساتھ رہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے داخلی تعمیرو ترقی کا طویل سفر طے کیا۔ بانی سعودی عرب شاہ عبدالعزیز سے لے کرآج تک سعودی مملکت نے ترقی کے کئی سنگ میل طے کیے۔ ایک دور تھا سعودی عرب میں مٹی کے کچے مکانات تھے اور آج ہم تعمیرات کی دنیا میں عالمی معیار کے مطابق چل رہے ہیں۔

تعلیم اور شرح خواندگی کے اعتبار سے سعودی عرب دنیا کا 41 واں ملک ہے جب کہ فرانس کا نمبر 40 واں ہے۔

دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑںے کے بارے میں پوچھے گئے سوا کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ سنہ 1979ء سے قبل حالات معمول پر تھے۔ مگر اس کے بعد دنیا بھر میں بعض لوگوں نے اسلام کو بدنام کیا۔ انہوں نے اسلام کی آڑ میں اپنے مذموم عزائم مسلط کرنے کی کوشش کی اور اسلام کو اغواء کر لیا۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب انتہا پسندانہ نظریات پھیلنے کا موقع نہیں دے گا۔ سعودی عرب خود انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر ہے۔ اگر میں اسامہ بن لادن یا کوئی دوسرا انتہا پسند یا دہشت گرد ہوتا تو میں بھی اپنے مخصوص نظریات کی ترویج کرتا اور اس کے لیے لوگوں کو بھرتی کرتا۔ میں مغرب یا ملائیشیا نہیں بلکہ سعودی عرب کے اندر ہی اپنے نظریات پھیلاتا۔ میں مسلمانوں کے قبلہ اول کی طرف رجوع کرتا اور حرمین شریفین کے میزبان ملک کو اپنا ہدف بناتا کیونکہ یہاں ہونے والی ہربات کو دنیا کے دوسرے خطوں میں پذیرائی ملتی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سنہ 1979ء کے بعد جو کچھ ہوا، انتہا پسند اور دہشت گرد پیدا ہوئے یہ سب اس کے بعد کی پیداوار ہیں۔ انہوں نے ہمارے پیارے ملک کو ہدف بنایا۔ یہاں کے لوگوں کو ورغلایا اور دہشت گردی پر اکسایا، انہیں بھرتی کیا گیا۔ وہ پوری دنیا میں دہشت گردانہ تعلیمات عام کرنے کے لیے سعودی عرب کو خصوصی طورپر ہدف بنائے ہوئے تھے۔ سعودی عرب دہشت گردی کی قیمت چکانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

دہشت گردی کی پہلی کارروائیاں سعودی عرب اور مصر میں کی گئیں۔ سنہ 1990ء کے عشرے میں سعودی عرب دہشت گردی کا شکار ہوا۔ بن لادن نے سنہ نوے کے عشرے کے اوائل میں لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا شروع کردیا تھا۔