.

تہران عراقی انتخابات پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے: زلمے خلیل زاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد نے باور کرایا ہے کہ ایران مئی میں مقررہ عراقی انتخابات پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے اور ساتھ ہی ان انتخابات کو اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کے حق میں انجینئرڈ بنانا چاہتا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں پیر کے روز اپنے ایک مضمون میں خلیل زاد نے لکھا کہ ایران سنجیدگی کے ساتھ انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے واسطے کام کر رہا ہے اور وہ عراقی حکومت میں اپنی ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہے جیسا کہ لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران واضح طور پر یہ چاہتا ہے کہ عراقی عوام فرقہ وارانہ ، نسلی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم رہیں تاکہ عراق کو پھر سے ایک خود مختار اور مستحکم قوت بننے سے روکا جا سکے۔

خلیل زاد کے مطابق ایران کے نزدیک امریکا اس کے منصوبے کی راہ میں مرکزی رکاوٹ ہے لہذا تہران امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کی امید لگائے بیٹھا ہے۔

خلیل زاد نے ٹرمپ حکومت کو 4 تجاویز پیش کی ہیں جن کے ذریعے عراق میں سیاسی عمل کے مستقبل پر ایرانی اثرات کو ناکارہ بنایا جا سکاتا ہے۔

پہلی یہ کہ ایران کی مخالفت کرنے والی جماعتوں اور فریقوں کو سپورٹ کیا جائے جو ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے کے حوالے سے امریکا کے ساتھ مشترکہ ہدف رکھتے ہیں۔

دوسری یہ کہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے عراق سے امریکی فورسز کے انخلاء سے سبق سیکھا جائے اور وہاں امریکا کا عسکری وجود باقی رکھا جائے۔

تیسری یہ کہ عراقی انتخابات کے نتائج سے قطع نظر امریکا کو چاہیے کہ فوری طور پر عراق کی نئی حکومت کی تشکیل کو سپورٹ کرے اور ایران کو اس حکومت کی تشکیل پر اثر انداز نہ ہونے دے۔

چوتھی اور آخری یہ کہ عراق میں امریکا کی ہمنوا جماعتوں ، حلیفوں اور شراکت داروں کو سرکاری طور پر سپورٹ کیا جائے۔

یاد رہے کہ انتخابات کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی عراق میں سیاسی منظر نامے پر انقسام کی حالت میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ ایران اپنے ہمنوا گروپوں کی جیت کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عراقی سنیوں کو اندیشہ ہے کہ تہران نواز شیعہ گروپوں کے حمایت یافتہ سنی امیدواروں کی کامیابی کی صورت میں سنیوں کے علاقوں میں ایرانی اثر و رسوخ پروان چڑھے گا۔

اس سے قبل ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی نے 17 فروری کو بغداد کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ان کا ملک " آزاد خیال اور کمیونسٹ عناصر کو عراق پر حکمرانی کرنے نہیں دے گا"۔ اس بیان نے بہت سی عراقی قوتوں کو چرآغ پا کر دیا تھا۔