.

حوثیوں کو ایرانی ہتھیاروں کی ترسیل، اقوام متحدہ کی بحری جہازوں کی سخت تلاشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے عہدے داران کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ تنظیم یمن پہنچنے والے بحری جہازوں کی تلاشی کی کارروائیوں کو سخت بنا رہی ہے تا کہ حوثیوں کے لیے ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکے جانے کو یقینی بنایا جا سکے۔

سلامتی کونسل کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل پر عائد کردہ پابندی کے تحت اقوام متحدہ کی کمیٹی کے مبصرین اور معائنہ کار 4 علاقائی بندرگاہوں (جیبوتی ، صلالہ اور دیگر بندرگاہوں) پر تعینات ہیں تا کہ یمن جانے والی کھیپوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

یمن میں سعودی سفیر محمد الجابر نے بدھ کے روز جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ریاض میں اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کے ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں کمیٹی کی صلاحیتوں کو بہتر اور مضبوط بنانے پر اتفاق رائے ہوا۔ سعودی سفیر کے مطابق متعلقہ کمیٹی اپنے معائنہ کاروں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 10 اور مبصرین کی تعداد 6 سے بڑھا کر 16 کر دے گی۔ اس کے علاوہ جہازوں کی تلاشی میں استعمال ہونے والی ٹکنالوجی کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

دوسری جانب یمن میں اقوام متحدہ کی انسانی امور کی رابطہ کار لیز گرینڈی کی معاون ٹیم نے جمعرات کے روز برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے مبصرین اور معائنہ کاروں کی تعداد میں اضافے اور تلاشی کے ساز و سامان کے حوالے سے مذکورہ اقدامات کی تصدیق کی۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی یمن کی شمالی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہونے والے تجارتی اور امدادی بحری جہازوں کی تلاشی کا کام انجام دے رہی ہے۔ ان بندرگاہوں میں الحدیدہ ، الصلیف اور راس عیسی وغیرہ شامل ہیں۔