.

خفیہ کارروائیوں میں گولن کے 80 پیروکاروں کی ترکی واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی انٹیلی جنس نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ گزشتہ ماہ خفیہ کارروائی کے ذریعے دنیا بھر سے 80 افراد کو واپس ترکی لانے میں کامیاب ہو گئی۔ ان افراد کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے پیروکار ہیں۔

انقرہ حکومت نے دھمکی دی تھی کہ وہ نہ صرف ترکی میں بلکہ اُن دیگر ممالک میں بھی گولن تحریک کے اثر کا خاتمہ کر دے گا جہاں اس نے خاص طور پر تعلیمی سیکٹر میں اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بنا لیا ہے۔ ترکی فتح اللہ گولن کو 2016ء کے ناکام انقلاب کا ذمے دار ٹھہراتا ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی اناضول کے مطابق ترکی کی حکومت کے ترجمان اور نائب وزیراعظم بکر بوزداغ کا کہنا ہے کہ قومی انٹیلی جنس کے ادارے اب تک 18 ملکوں سے گولن تحریک کے 80 ارکان کو واپس لا چکے ہیں۔

ترکی میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے انقرہ حکومت ملک کے اندرون اور بیرون گولن کے پیروکاروں کا تعاقب کر رہی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پہلے ہی اس عزم کا اعلان کر دیا تھا کہ ریاستی اداروں کو گولن کے "وائرس" سے پاک کیا جائے گا۔

گزشتہ ماہ مارچ میں کوسوو سے پانچ اساتذہ اور ایک ڈاکٹر کو واپس لایا گیا تھا۔ یہ تمام افراد ترکی کی شہریت رکھتے ہیں اور خیال ہے کہ فتح اللہ گولن کے پیروکار ہیں۔ مذکورہ افراد کی خفیہ طور پر واپسی کی کارروائی کوسوو کی وزارت داخلہ اور ترکی کی انٹیلی جنس کے درمیان رابطہ کاری سے عمل میں آئی۔ اس کارروائی نے کوسوو میں ایک بحران کھڑا کر دیا تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ کوسوو کے صدر اور وزیراعظم نے اس امر پر احتجاج کیا کہ یہ کارروائی ان کے علم میں کیوں نہیں لائی گئی۔

البتہ ترک حکومت کے ترجمان بوزداغ نے کوسوو کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ "ترکی کی انٹیلی جنس نے بیرون ملک کارروائی کے ذریعے گولن تحریک پر ایک کاری ضرب لگائی ہے۔ کوسوو آپریشن ایک بڑی کامیابی ہے"۔

کوسووو کے وزیراعظم راموش هیری ڈینائی نے مذکورہ آپریشن کے پس منظر میں سینئر سکیورٹی عہدے داران کو برطرف کر دیا۔ اس اقدام سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن چراغ پا ہو گئے۔

ترک نیوز ایجسنی اناضول نے کوسوو سے ملک بدر کیے جانے والے چھ افراد کو گولن تحریک کے سینئر ارکان قرار دیا جو تحریک کے ارکان کے لیے بین الاقوامی اسفار کا انتظام کرتے ہیں۔