امریکی صدر اپنے ’دوست‘شی سے تجارتی سودے بازی کے لیے پُر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور محصولات کے ضمن میں جاری تنازع کو بہت جلد طے کر لیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’ چین اپنی تجارتی رکاوٹوں کو دور کر دے گا کیونکہ یہی درست کرنے کا کام ہے۔ٹیکس دو طرفہ بن جائیں گے اور انٹلیکچوئل پراپرٹی پر ڈیل ہوجائے گی۔دونوں ملکوں کا عظیم مستقبل اسی سے وابستہ ہے‘‘۔

وہ لکھتے ہیں:’’ چین کے صدر شی جین پنگ ہمیشہ دوست رہیں گے۔اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تجارت پر ہمارا تنازع کیا رُخ اختیار کرتا ہے‘‘۔

امریکا کی اسٹاک مارکیٹ جمعہ کو صدر ٹرمپ کی چین اور دیگر سے ممالک سے آنے والی 100 ارب ڈالرز مالیت کی درآمدات پر مزید محصولات عاید کرنے کی دھمکی کے بعد مزید دو فی صد سے زیادہ گر گئی تھی۔اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مکمل تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

تاہم بعض عالمی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے خلاف سخت تجارتی اقدامات کی دھمکی دراصل سودے بازی کے ایک حربے کے طور پر دے رہی ہے ۔

صدر ٹرمپ نے مارچ میں اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر نئے محصولات عاید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کا بنیاد ی ہدف چین ہی تھا ۔امریکا نے گذشتہ منگل کو چینی اشیاء کی ایک فہرست شائع کی تھی جن پر یہ نئے محصولات عاید کیے جائیں گے۔امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے چین کی جانب سے بڑے پیمانے دانشورانہ ملکیتی حقوق (انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس )اور ٹیکنالوجی کے سرقے کے پیش نظر کیا ہے۔

چین نے اس کے جواب میں امریکا کی 50 ارب ڈالرز مالیت کی برآمدات پر نئے محصولات عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان اشیاء میں امریکا کی سویا بین ، کاروں اور چھوٹے طیاروں کی برآمدات شامل ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے چین کے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ چین نے اپنی غلط روی کے ازالے کے بجائے ہمارے کسانوں اور مصنوعات سازوں کو نقصان پہنچانے کا انتخاب کیا ہے۔تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب تک اس تجارتی جنگ میں چین کی اسٹیل اور ایلومینیم کی برآمدات پر عاید کردہ نئے محصولات ہی کا نفاذ کیا گیا ہے۔

چین نے عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او ) کو امریکا کے خلاف دو درخواستیں بھی دائر کی ہیں اور ان میں اس پر عالمی تجارتی قواعد وضوابط کی پاسدارای نہ کرنے کا الزام عاید کی ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں