ایران اور روس ’’جانور بشارالاسد‘‘ کی پشت پناہی کررہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

اسد رجیم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر سابق صدر اوباما بھی دوما میں نئے کیمیائی حملے کے ذمے دار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے جنگ سے تباہ حال علاقے مشرقی الغوطہ میں واقع شہر دوما میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسد رجیم ہی اس حملے کا ذمے دار ہے جبکہ ایران اور روس ’’ جانور بشارالاسد‘‘ کی پشت پناہی کررہے ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر شام کی تازہ صورت حال سے متعلق دو تین ٹویٹس پوسٹ کی ہیں ۔انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین اور ایران پر شامی صدر کی پشت پناہی کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔انھوں نے کیمیائی حملے کی زد میں آنے والے علاقے کو فوری طور پر انسانی امداد کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما پر بھی یہ الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں ’’ سرخ لکیر‘‘ عبور ہوجانے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔براک اوباما نے شام میں شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیارو ں کے استعمال کو ایک سرخ لکیر قرار دیا تھا اور اسد رجیم کے خلاف امریکی طاقت کے استعمال کی دھمکی دی تھی۔

لیکن اس دھمکی کو کبھی عملی جامہ پہنانے کی نوبت نہیں آئی تھی اور شامی فوج نے شہریوں کے خلاف وقفے وقفے سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے ۔البتہ تب شامی صدر بشارالاسد نے ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کی تلفی سے اتفاق کیا تھا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیش رو صدر کے اس اقدام کو’’ قومی سبکی‘‘ قرار دیا تھا۔

ترکی اور رومن کتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس سمیت بہت سے ممالک اور عالمی شخصیات نے بھی دوما میں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی مذمت کی ہے۔

پوپ فرانسیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ کوئی جنگ اچھی یا بری نہیں ہوتی اور بے یارو مددگار لوگوں کی نسل کشی اور آبادی کے خلاف اس طرح کے آلات کے استعمال کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

شام کے سرکاری میڈیا نے دوما میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کی اطلاعات منظرعام پر آنے کے فوری بعد اس امر کی تردید کی تھی کہ سرکاری فورسز نے ایسا کوئی حملہ کیا ہے۔تاہم شامی رضاکاروں پر مشتمل تنظیم وائٹ ہیلمٹ نے سوشل میڈیا پر کیمیائی حملے سے متاثرہ بچوں اور بڑی عمر کے افراد کی متعدد تصاویر جاری کی ہیں جن سے شامی میڈیا کے دعووں کی تردید ہوجاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں