قطر نے مشرقِ وسطیٰ میں سب سے ضرررساں اثرات مرتب کیے: امریکی تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کو قطر میں اپنے فوجی اڈے العدید کو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے لیے ایک عذرخواہی کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ اس کے بجائے اس فوجی اڈے کو قطری کردار میں تبدیلی کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہیے تھا۔

یہ بات امریکا کے خارجہ پالیسی کے ایک ماہر ڈاکٹر میچل بارڈ نے فاکس نیوز کی ویب گاہ پر شائع شدہ ایک کالم میں لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں:’’ قطر نے مشرقِ وسطیٰ میں سب سے ضرررساں اثرات مرتب کیے ہیں اور وہ دہشت گرد گروپوں کا ایک بڑا حامی اور مددگار ملک ہے‘‘۔

ڈاکٹر بارڈ کے بہ قول ’’قطر امریکا کے اتحادی عرب ممالک اور اسرائیل کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت ، تشدد کی شہ دینے اور سرکاری فنڈز سے چلنے والے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کے ذریعے منافرت پھیلا کر خطرے کا موجب بن رہا ہے۔وہ امریکا کے سخت مخالف اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بھی تعاون کررہا ہے‘‘۔

ڈاکٹر بارڈ مزید لکھتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی پیش رو اوباما انتظامیہ کی طرح قطر کے خطرناک کردار کو ایک اور انداز سے دیکھ رہی ہے اور اسی کو ترجیح دے رہی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کو قطر پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا موجودہ کردار ہرگز بھی قبل قبول نہیں اور امریکا اس سے کوئی رورعایت نہیں برتے گا‘‘۔

انھوں نے لکھا ہے کہ قطر خود کو ایک اعتدال پسند اور امریکا کے مددگار ملک کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن اس کے باوجود قطری حکومت اور افراد نے دو دہشت گرد گروپوں کو مالی معاونت فراہم کی ہے اور یہ اخوان المسلمون اور فلسطینی تنظیم حماس ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی حکومت اور افراد حماس کو بھی اسرائیل کی پیروی میں دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں ۔اس امریکی مصنف نے قطر پر علامہ یوسف القرضاوی کی تقاریر کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دینے کا بھی الزام عاید کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں