.

شام کے بارے میں 24 سے 48 گھنٹے میں بڑے فیصلے : ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شام کے بارے میں آیندہ دو ایک روز میں بڑے فیصلے کیے جارہے ہیں۔اس سے پہلے انھوں نے شام کو خبردار کیا تھا کہ اس کو باغیوں کے زیر قبضہ شہر دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر دوما میں بے گناہ شامی شہریوں پر کیمیائی حملے کو خوف ناک قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ انسانیت کا معاملہ ہے اور ایسا وقوع پذیر ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس ضمن میں آیندہ 24 سے 48 گھنٹے میں فیصلے کیے جائیں گے۔

اس سے چند گھنٹے قبل شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے وسطی صوبے حمص میں ایک فوجی اڈے پر میزائل حملے کی اطلاع دی تھی اور اس کو امریکا کی ممکنہ جارحیت قرار دیا تھا ۔تاہم امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان نے فوری طور پر اس حملے سے امریکا کے کسی قسم کے تعلق کی تردید کردی تھی۔

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک نئی آزادانہ انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ امریکا نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں اس ضمن میں آج ایک مجوزہ قرارداد کا مسودہ تقسیم کیا ہے ۔اس کی منظوری کی صورت میں اقوام متحدہ کا ایک تحقیقاتی پینل قائم کیا جائے گا اور وہ شام میں زہریلی گیسوں کے حملوں کے ذمے داروں کا تعین کرے گا۔

طبی کارکنان ، امدادی رضاکاروں اور برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق دوما پر مہلک گیس کے حملے میں 40 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔شام اور اس کے اتحادی روس نے شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تردید کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک بیان میں اس حملے کی شدید مذمت کی تھی اور ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے احمقانہ حملے میں خواتین اور بچوں سمیت بہت سے افراد مارے گئے ہیں۔شامی فوج نے حملے کی زد میں آنے والے علاقے کا محاصرہ کررکھا ہے۔بیرونی دنیا کی اس تک رسائی بالکل ناممکن ہے ۔صدر پوتین ، روس اور ایران جانور اسد کی پشت پناہی کے ذمے دار ہیں ۔انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘‘۔

انھوں نے کیمیائی حملے کی زد میں آنے والے علاقے کو فوری طور پر انسانی امداد کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما پر بھی یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں ’’ سرخ لکیر‘‘ عبور ہوجانے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

براک اوباما نے شام میں شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیارو ں کے استعمال کو ایک سرخ لکیر قرار دیا تھا اور اسد رجیم کے خلاف امریکی طاقت کے استعمال کی دھمکی دی تھی لیکن اس دھمکی کو کبھی عملی جامہ پہنانے کی نوبت نہیں آئی تھی اور شامی فوج نے شہریوں کے خلاف وقفے وقفے سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے ۔البتہ تب شامی صدر بشارالاسد نے ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کی تلفی سے اتفاق کیا تھا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیش رو صدر کے شامی حکومت سے اس سمجھوتے کو ایک ’’ قومی سبکی‘‘ قرار دیا تھا۔