.

نوبل اکیڈمی ایک اہم عہدہ دار پر جنسی ہراسیت کے 18 الزامات کے بعد بحران کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نوبل انعام برائے ادب کے تین جج صاحبان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں ۔انھوں نے یہ اقدام سویڈن میں قائم نوبل اکیڈمی سے وابستہ ایک سرکردہ شخصیت کے خلاف جنسی ہراستم اور حملوں کے الزامات منظرعام پر آنے کے بعد کیا ہے۔

نوبل ادب کمیٹی کے ان تینوں منصفین کلاس اوسٹرگرین ،جیل ایسپمارک اور پیٹر اینگلنڈ نے جمعہ کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ سویڈش اکیڈمی کو خیرباد کہہ رہے ہیں ۔

سویڈش اخبار ڈیجینز نائی ہیٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق 18 عورتوں نے اسٹاک ہوم کے ایک کلچرل سنٹر کے سربراہ ژاں کلاڈ آرنالٹ کے خلاف جنسی حملے اور ہراسیت کے الزامات عاید کیے ہیں۔یہ صاحب ایک معروف ثقافتی شخصیت ہیں اور ان کے نوبل اکیڈمی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ایک قانونی فرم کو ان صاحب کے اکیڈمی پر اثرو رسوخ کی تحقیقات کے لیے کہا گیا ہے۔

مسٹر پیٹر اینگلنڈ نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ ’’ انھوں نے اس بحران سے نمٹنے کے طریق کار پر اختلاف کے بعد اکیڈمی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں جن کی نہ تو میں تائید کرسکتا ہوں اور نہ ان کا دفاع کرسکتا ہوں۔اس لیے میں نے سویڈش اکیڈمی کے کام میں مزید کسی قسم کاکوئی حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

منصف اوسٹرگرین نے اخبار سیونسکا داگ بلادٹ کو بھیجے گئے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ اکیڈمی ایک طویل عرصے سے سنگین مسائل سے دوچار ہے اور اب وہ ان کو ایسے انداز میں حل کرنے کی کوشش کررہی ہے جو اس کے مرتبے کے منافی ہے۔چنانچہ میں نے اس کی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور میں اس کھیل سے باہر ہورہا ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ 18 ارکان پر مشتمل نوبل کمیٹی میں شامل جج صاحبان کا تاحیات تقرر کیا جاتا ہے اور فنی طور پر انھیں کمیٹی کو خیرباد کہنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔1989ء میں تین منصفین نے اکیڈمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور انھوں نے یہ فیصلہ اکیڈمی کی جانب سے ایران کے رہبر انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کی مذمت میں بیان جاری نہ کرنے پر کیا تھا لیکن اکیڈمی نے ان کا استعفا منظور نہیں کیا تھا۔آیت اللہ خمینی نے تب توہین آمیز ’’شیطانی آیات ‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔