.

ويٹيکن کا سفارت کار چائلڈ پورنوگرافی رکھنے کی وجہ سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے سال واشنگٹن کے سفارت خانے ميں خدمات سر انجام دينے والے ويٹيکن کے ايک سفارت کار کارلو ايلبرٹو کپيلا کو بچوں کا فحش مواد رکھنے کے سلسلے ميں گرفتار کر ليا گيا ہے۔

کارلو ايلبرٹو کپيلا کو ويٹيکن کے گارڈز نے ہفتے کے روز حراست ميں ليا۔ اس بارے ميں جاری کردہ ويٹيکن کے بيان ميں بتايا گيا ہے کہ وہ اس وقت حراست ميں ہيں اور انہيں وسيع پيمانے پر ’چائلڈ پورنوگرافی‘ رکھنے کے سبب گرفتار کيا گيا ہے۔ کپيلا پر ويٹيکن کے قوانين کے تحت فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

سن 2013 کے ايک قانون کے مطابق ايسے جرائم کی سزا ايک تا پانچ سال کی قيد سميت ڈھائی ہزار سے لے کر پچاس ہزار يورو تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کی نوعيت اگر بڑی ہو، تو قانون ميں ان سزاؤں ميں اضافے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ سفارت کار کارلو ايلبرٹو کپيلا پچھلے سال واشنگٹن کے سفارت خانے ميں خدمات سر انجام دے رہے تھے تاہم امريکی حکام کی جانب سے ان پر ’چائلڈ پورنوگرافی‘ کے شکوک و شبہات کی وجہ سے گزشتہ برس ستمبر ميں انہيں واپس بلا ليا گيا تھا۔ ويٹيکن نے ان پر امريکا ميں مقدمہ چلائے جانے کی مخالفت کی اور يوں انہيں واپس ويٹيکن لايا گيا۔ ان کے خلاف ابھی تفتيش جاری ہے۔

اس سے قبل پولينڈ کے ايک سفارت کار جوزف ويزلوووسکی پر بھی يہ الزام لگايا گيا تھا کہ وہ نوجوان لڑکوں کو جنسی عوامل کے ليے رقوم ادا کيے کرتے تھے۔ يہ مبينہ طور پر اس وقت ہوا، جب ويزلوووسکی ڈومينيکن ری پبلک ميں جب ويٹيکن کے سفارت کار کی حيثيت سے ملازمت کر رہے تھے۔ تاہم ان کے خلاف باقاعدہ عدالتی کاررواسی سے قبل ہی سن 2015 ميں وہ چل بسے۔

کيتھولک کليسا ايک عرصے سے ايسے الزامات کی زد ميں رہا ہے، جن کے مطابق دنيا کے کئی ممالک ميں پادری اور مذہبی رہنما بچوں کے ساتھ جنسی عوامل ميں مصروف رہے اور کليسا کی جانب سے ايسے واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوششيں کی گئيں۔ تاہم پاپائے روم فرانسس نے کہہ رکھا ہے کہ وہ ايسے واقعات کو بالکل برداشت نہيں کريں گے۔