.

’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں‘: شمالی کوریا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا نے امریکا کو پہلی بار مطلع کیا ہے کہ شمالی کوریائی سربراہ کم جونگ اُن، امریکی صدر سے ملاقات میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہیں۔

ایک امریکی اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پرخبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی اور شمالی کوریائی حکام کے درمیان مخفی روابط کے دوران پیانگ یونگ حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس سربراہی ملاقات کے دوران جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ گو ابھی دونوں ممالک کے روابط ابتدائی مراحل میں ہیں تاہم اس میں اقوام متحدہ کے مشن کے ذریعے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اب تک کے رابطوں میں شامل ہو چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کی تیاریاں خفیہ رکھی جا رہی ہیں اور اس کی تاریخ، مقام اور دیگر تفصیلات کے حوالےسے کچھ نہیں کہا جا رہا۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق یہ مجوزہ ملاقات اگلے ماہ متوقع ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا ابھی تک عوامی سطح پر اس سمٹ کے حوالے سے خاموش اختیار کیے ہوئے ہے۔

ادھر جنوبی کوریا کی جانب سے اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ملاقات کا یہ عندیہ مثبت ہے تاہم وہ یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کس حد تک معلومات کا تبادلہ ہو گا۔ شمالی کوریا نے امریکی صدر کو ملاقات کی یہ دعوت پیانگ یونگ کا دورہ کرنے والے جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ذریعے دی تھی۔

واضح رہے کہ اس خبر کے آنے سے قبل تک امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان لفظی جنگ جاری تھی جس میں دونوں ممالک کے صدور ایک دوسرے کو جوہری حملے کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔