.

بشار الاسد کی جانب سے سُرخ لکیر پار کرنے پر جواب دیں گے : فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی حکومت کے ترجمان بنجامین گریفو کا کہنا ہے کہ صدر امانوئل ماکروں بارہا باور کرا چکے ہیں کہ اگر شام میں سُرخ لکیر سے تجاوز کیا گیا تو لا محالہ جوابی کارروائی ہو گی۔

گریفو نے "یورپ 1" ریڈیو چینل کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ پیر کی شب صدر ماکروں نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ اس دوران دونوں شخصیات کے درمیان جن معلومات کا تبادلہ ہوا ان سے ابتدائی طور پر شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہوتی ہے۔ ترجمان کے مطابق فرانس اور امریکا کے صُدور نے اپنی ٹیموں کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں جاری تحقیقات کے حوالے سے پیش رفت پر نظر رکھیں۔

گریفو نے بتایا کہ ماکروں اور ٹرمپ کے درمیان آئندہ 48 گھنٹوں میں دوبارہ رابطہ ہونے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پیرس میں الیزے پیلس کی جانب سے پیر کی شب جاری بیان میں اعلان کیا گیا کہ فرانس اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلیفون پر پھر سے رابطہ ہوا جو دو روز کے اندر ہونے والا دوسرا رابطہ ہے۔ بات چیت میں شام کے علاقے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ دونوں شخصیات نے زور دیا کہ عالمی برادری کی جانب سے بھرپور جواب دیے جانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز یہ باور کرا چکے ہیں کہ کسی بھی کیمیائی حملے کا جواب پوری طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔

فرانسیسی حکومت کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ "اختلافات ہونے کے باوجود ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ امور کو زیر بحث لائیں۔ تاہم ساتھ ہی ہمیں ایک دوسرے کی ذمے داریوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے بالخصوص اس خطّے میں جہاں علاقائی قوتیں اپنا بھرپور اثر و رسوخ عمل میں لا رہی ہیں خواہ وہ ترکی ہو ، ایران ہو اور یا پھر روس ہو"۔