.

سوازی لینڈ کےرنگین مزاج بادشاہ کی ایک بیوی نے خود کشی کیوں کی؟

مسواتی سوم کی 15 بیویاں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک غریب اور پسماندہ افریقی ملک سوازی لینڈ کے بادشاہ مسواتی سوم کی پندرہ میں سے ایک بیوی نے خود کشی کرکے اپنی زندگی ختم کردی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسوتی کی اہلیہ 37 سالہ Senteni Masango کو شاہی محل میں اس کی رہائش گاہ پر مردہ پایا گیا۔ اس کی موت خود کشی کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسانگو کچھ عرصے سے سخت نفسیاتی دباؤ اور ڈی پریشن کا شکار تھیں۔ حال ہی میں اس کی ایک ہمشیرہ انتقال کرگئی تھیں اور بادشاہ نے اسے ہمشیرہ کے جنازے میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔

سوازی لینڈ کے رنگین مزاج بادشاہ سلامت کی کل 15 بیگمات تھیں جن میں سے ایک حال ہی میں انتقال کرگئی۔

مسواتی نے سنہ 2000ء میں مسانگو سے شادی کی۔ اس وقت خاتون کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس کا انتخاب بادشاہ کے سامنے پیش کی گئی رقاصاؤں میں سے کیا گیا تھا۔ بادشاہ سے اس کے بطن سے دو بچے بھی ہیں۔

مسانگو کی بادشاہ کے ساتھ شادی کے بعد اس کی تعلیم کا سلسلہ رک گیا تھا۔ ناقدین نے اسے غیر مناسب شادی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ مسانگو شاہی محل کی طرز زندگی سے خوش نہیں۔

حقیقت سے فرار

سوازی لینڈ کے بادشاہ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو دباؤ میں رکھا جس کے نتیجے میں وہ سخت مایوس ہوگئی تھی اور حقائق سے فرار اختیار کرنے کے لئے کوشاں رہی۔

وہ اپنی مایوسی کم کرنے کے لیے پلاسٹک سرجری اور فارغ اوقات میں خاکہ سازی میں مصروف رہتی۔

تاہم بادشاہ لوسینڈفو فاکوڈزی المعروف مسواتی سوم کے ایک قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیوی کی موت سے بادشاہ سخت دکھی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بادشاہ نے مسانگو کی پرائیویٹ زندگی اس سے چھین لی تھی جس کا بادشاہ کو کوئی حق نہیں تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مسانگو کی میت رات بھر اس کےکمرے میں پڑی رہی اور اس کے اہل خانہ کو اس کی تدفین کے لیے تیاری کی اجازت نہیں دی گئی۔

خود باشاہ رواں ماہ اپنی 50 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ ان پر پرتعیش زندگی گذارنے کا الزام ہے جب کہ رعایا بھوک سے مررہی ہے۔

بادشاہ کی پندرہ بیویوں میں سے 23 بچے ہیں اور اس کا شاہی محل دارالحکومت سوازیہ لوبامبا میں کئی میل پر پھیلا ہوا ہے۔

مسواتی نے انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی اور سنہ 1986ء میں ان کے والد کی وفات کے بعد انہیں مملکت کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ اس وقت مسواتی کی عمر محض چودہ سال تھی۔

سنہ 2002ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسواتی اور اس کے ایجنٹوں پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام عاید کیا۔ انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا تھا کہ سوازی لینڈ کےبادشاہ نے ایک 18 سالہ لڑکی زینا ماھلانگو کواسکول سے اغواء کیا اور اس کے ساتھ زبردستی شادی کرلی تھی۔ بچی کے والدین اپنی لخت جگر کا مقدمہ بھی نہیں لڑ سکے۔

سنہ 2011ء میں وہی لڑکی کیٹ میڈلٹن کی شادی کی تقریب میں مسواتی کے ہمراہ دیکھی گئی تھی۔ باد شاہ نے ایک حالیہ شادی گذشتہ برس ستمبر میں اپنے ایک وزیر کی انیس سالہ بیٹی سیفیلی ماشواماما کے ساتھ رچائی۔