.

شام میں فضائی حملے کے بعد روس میں اسرائیلی سفیر کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے ایک نمایاں سفارت کار نے بتایا ہے شام کے وسطی علاقے میں "التیفور" کے عسکری اڈے پر فضائی حملے کے بعد ماسکو میں اسرائیلی سفیر کو وزارت خارجہ کے دفتر طلب کر لیا گیا۔ ماسکو اور شامی حکومت نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

روسی فوج کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے اس حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے جن میں ایرانی بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے اس کارروائی پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

مشرق وسطی اور افریقہ کے لیے روسی صدر کے نمائندے میخائیل بوگدانوف نے منگل کے روز روسی خبر رساں ایجنسیوں کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ روسی وزارت خارجہ نے آج ماسکو میں اسرائیلی سفیر کو "بات چیت کے لیے" طلب کیا ہے۔

بوگدانوف سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا یہ معاملہ فضائی حملے سے متعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ "روسی سفارت کار فقط شام کی جنگ سے متعلق مختلف معاملات اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں"۔