آسٹریلیا سے قطر کو بھیجی گئی 2400 بھیڑوں کی جہاز میں گرمی سے ہلاکتوں کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آسٹریلوی حکام نے گذشتہ سال پرتھ سے قطر کے دارالحکومت دوحہ بھیجی گئی 2400 بھیڑو ں کی جہاز میں شدید گرمی سے ہلاکتوں کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آسٹریلیا سے گذشتہ سال اگست میں عمانوایل ایکسپورٹس شپ نامی بحری جہاز کے ذریعے یہ قریباً چوبیس سو بھیڑیں بھیجی گئی تھیں۔اس بحری جہاز سے حاصل کردہ فوٹیج میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان بھیڑوں کو’’بھیڑ بکریوں کی طرح لادنے‘‘ کے محاورے کے عین مطابق زبردستی ٹھونسا گیا تھا ۔وہ بالکل ساتھ ساتھ جڑی ہوئی تھیں اور وہ صرف سانس لے سکتی تھیں ۔شدید گرم اور حبس زدہ موسم میں ان کا پسینہ بہ رہا تھا.وہ سفر کے دوران میں بری طرح ہانپ رہی تھیں اور پھر نڈھال ہوکر مرتی رہی تھیں۔

آسٹریلوی چینل اے بی سی نیوز کے پروگرام60 منٹ میں بھیڑوں کے اس طرح مرنے کی فوٹیج نشر کی گئی ہے اور اس واقعے کا انکشاف کرنے والے فیصل اللہ نے بتایا ہے کہ ’’ بھیڑیں ہمارے سامنے ایک ،ایک کرکے مرتی رہی تھیں ۔یہ بالکل ایسا ہی منظر تھا ،جیسے جانوروں کو بیک وقت کسی بڑے اوون میں ڈال دیا جائے۔یعنی جانوروں کو زندہ بھون دیا جائے‘‘

اس جہاز سے لی گئی فوٹیج اسی ہفتے آسٹریلیا کے وزیر زراعت ڈیوڈ لٹل پروڈ کو بھی دکھائی گئی ہے۔انھوں نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کا عمل جاری نہیں رکھا جاسکتا۔انھوں نے بھیڑوں کی ہلاکتوں کی ازسرنو تحقیقات کا حکم دیا ہے اور آسٹریلوی تاجروں اور کسانوں سے اس ضمن میں ویٹرنری ڈاکٹروں اور حکام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں