اپنے اسمارٹ میزائلوں کا رخ دہشت گردوں کی جانب کیجیے: روس کا ٹرمپ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے شام کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئیٹس کے جواب میں کہا ہے کہ "اسمارٹ میزائلوں کا رخ کسی آئینی حکومت (شام میں بشار حکومت) کی جانب نہیں بلکہ دہشت گردوں کی سمت ہونا چاہیے"۔ ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹس میں دھمکی دی تھی کہ "امریکی اسمارٹ میزائلوں کا سامنا کرنے کے لے تیار رہا جائے جو شام کی جانب آئیں گے"۔

بدھ کے روز ماریا زاخاروف اپنے فیس بک پیج کے ذریعے استفسار کیا کہ "کیا میزائل حملوں کی جلد کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی تحقیق کاروں کے لیے کوئی شواہد باقی نہ رہیں؟" ماریا نے استہزائیہ لہجے میں کہا کہ "کیا کیمیائی ہتھیاروں کی پابندی کی تنظیم کے معائنہ کاروں نے یہ بول دیا ہے کہ اسمارٹ میزائل اب زمین پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے تمام تر ثبوت مٹادیں گے ؟".

دوسری جانب شامی حکومت نے بھی ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیا ہے۔ بشار حکومت کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ "ہم امریکا کی جانب سے اس طرح کی غیر ذمے دارانہ اور رعونت آمیز جارحیت سے حیران نہیں ہوتے۔ امریکا شام کو نشانہ بنانے کے لیے جھوٹ اور من گھڑت باتوں کا سہارا لیتا ہے"۔

اس سے قبل روس کے کرملن ہاؤس نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ شام میں کسی بھی قسم کا اقدام خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔ کرملین کے ترجمان دمتری بیسکوف نے کہا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریق بلا جواز اقدامات سے اجتناب برتیں گے جس سے خطے کی کمزور صورت حال مزید غیر مستحکم ہو جائے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ صورت حال کشیدہ ہے اور روس کیمیائی حملے کے الزامات عائد کیے جانے سے قبل واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیق چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ روس نے منگل کے روز سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار داد کو ویٹو کر دیا تھا۔ قرار داد میں دوما میں مبینہ طور پر زہریلی گیس کے ساتھ حملے کے ذمے دار عناصر کا تعین کرنے کے واسطے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ماسکو کا اصرار ہے ک ہاس کے عسکری ماہرین کو کیمیائی حملے کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں