جب نیویارک میں مجسمہ آزادی تخریب کاری کی لپیٹ میں آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عصر حاضر میں نیویارک کی بندرگاہ پر نصب "مجسمہ آزادی" امریکا کی نمایاں ترین پہچانوں میں سے ایک ہے۔ اس تاریخی مجسّمے کا دورہ کیا جائے تو آخری حد کے طور پر اس کے سر کے تاج تک پہنچا جا سکتا ہے۔ مجسمّے کے افتتاح کے بعد گزری چند دہائیوں کے دوران مجسّمے کے بلند بازو کی چوٹی تک بھی جانے کی اجازت تھی۔ تاہم ایک تخریبی حادثے کے بعد 1916ء سے یہ ونگ لوگوں کے آنے جانے کے لیے سرکاری طور پر بند کر دیا گیا اور آج تک بند ہے۔

مذکورہ حادثہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں پیش آیا۔ اس عرصے میں امریکی حکام گولہ بارود کی ایک بڑی مقدار ریاست نیو جرسی کے شہر جرسی سٹی کے مقابل واقع بلیک ٹوم جزیرے میں ذخیرہ کر رہے تھے۔ اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ اکتوبر 1914ء تک یہ علاقہ امریکا کے مشرقی ساحل پر گولہ بارود کا سب سے بڑا ڈپو بن جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک ریلوے ٹریک بھی بنایا گیا جو بلیک ٹوم جزیرے کو جرسی سِٹی سے ملاتا تھا۔

سال 1914ء کے قریب دنیا نے پہلی جنگ عظیم کا وقوع دیکھا۔ امریکا 1917ء میں تین ملکی اتحاد کے مفاد میں سرکاری طور پر جنگ میں داخل ہوا۔ یہ تین ممالک برطانیہ ، فرانس اور روس تھے۔ 1914ء سے 1917ء کے درمیان برطانیہ نے جرمنی کا شدید بحری محاصرہ کر لیا تھا تا کہ امریکی اسلحے کو جرمنی پہنچنے سے روکا جا سکے۔ البتہ برطانیہ ، روس اور فرانس بدستور امریکا سے اسلحہ حاصل کرتے رہے۔ جرمنی نے اس بدترین صورت حال کو دیکھ کر تین ملکی اتحاد کے لیے امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کا راستہ روکنے کا فیصلہ کیا۔ 1916ء میں جرمنی نے اپنے ایجنٹوں کو ایک مشن کے تحت امریکا بھیجا۔ مشن یہ تھا کہ جرسی سٹی کے مقابل بلیک ٹوم جزیرے میں امریکی گولہ بارود کے ذخیرے کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا جائے۔

جولائی 1916ء میں تقریبا 20 لاکھ پاؤنڈ وزن کا گولہ بارود اور تقریبا ایک لاکھ پاؤنڈ وزنی راکٹوں کو بحری جہازوں کے ذریعے روس بھیجا جانا تھا۔ اسی ماہ 29 اور 30 جولائی کی درمیانی شب کئی جرمن ایجنٹوں نے جزیرہ بلیک ٹوم میں گولہ بارود کے ضخیم ذخیرے کے اندر بڑی تعداد میں ٹائم بم نصب کر دیے اور وہاں سے فرار ہو گئے۔ 30 جولائی کی شب رات تقریبا دو بجے یہ علاقہ خوف ناک دھماکے سے لرز گیا یہاں تک کہ تیس کلو میٹر کی دوری پر واقع گھروں کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ امریکی ادارے کے مطابق جزیرے میں گولہ بارود کے ذخیرے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 5.5 شدت کا زلزلہ آ گیا۔ صبح سویرے جا کر امریکیوں کو اس آفت کا اندازہ ہوا۔ واقعے میں چار افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہونے کے علاوہ تقریبا 2 کروڑ امریکی ڈالر کا مادی خسارہ ہوا۔ (آج کے دور کے لحاظ سے یہ رقم 45 کروڑ ڈالر کے مساوی بنتی ہے).

بلیک ٹوم جزیرے میں اس خوف ناک دھماکے سے مجسمہ آزادی کو بھی نقصان پہنچا۔ مجسّمے کی چادر اور مشعل کو تھامنے والے دائیں ہاتھ کا کافی حصّہ تباہ ہو گیا۔ اس وقت مجسمہ آزادی کی مرمت اور درستی کے لیے آنے والی لاگت کا اندازہ تقریبا ایک لاکھ ڈالر لگایا گیا۔ (آج کے دور کے لحاظ سے یہ رقم 20 لاکھ ڈالر کے مساوی بنتی ہے)۔

حادثے کے بعد ابتدائی دنوں میں امریکی حکام نے عوام کو مجسمہ آزادی کے قریب آنے سے روک دیا۔ اس دوران امریکیوں کو اس تخریب کاری کی اصل وجہ معلوم نہ ہو سکی اور انہوں نے اسے ایک حادثہ قرار دیا۔

پہلی جنگ عظیم کے ختم ہونے کے کئی برس بعد سلوویکیا کے ایک مہاجر نے انکشاف کیا کہ اس نے جزیرہ بلیک ٹوم کے دھماکے کے سلسلے میں جرمن ایجنٹس کے لیے مخبری کی تھی۔ اس کے بعد شروع کی جانے والی تحقیقات میں بعض جرمن نژاد پہرے داروں کے ملوث ہونے کا ثبوت مل گیا۔ ساتھ ہی امریکی حکام نے اس تخریب کاری میں سابقہ جرمن حکام کے ملوث ہونے کا اعلان کیا۔

سال 1953ء میں مغربی جرمنی اس دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے اور امریکیوں کو زر تلافی کی ادائیگی پر آمادہ ہو گیا جس کی مالیت 9.5 کروڑ ڈالر بنی۔ اس رقم کی آخری قسط 1979ء میں ادا کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں