ہم اُس معاہدے کو نہیں دُہرانا چاہتے جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا: محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے مالی اثاثے عوام کی بہبود اور ترقی پر نہیں خرچ کر رہا بلکہ وہ یہ رقم اپنے نظریات پھیلانے پر لُٹا رہا ہے۔

منگل کے روز پیرس کے الیزے پیلس میں فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بن سلمان نے کہا کہ ایران کے توسیع پسندی کے منصوبے پر روک لگائی جانی چاہیے۔

سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ناگزیر ہے اور "ہم 1938ء میں ہونے والے معاہدے کو دہرانا نہیں چاہتے جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا تھا"۔

محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور فرانس کی شراکت داری بالخصوص موجودہ وقت میں نہایت اہم ہے۔ فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اسلحے کی خریداری کے معاہدے ہیں اور یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے۔

سعودی ولی عہد نے ویژن 2030ء پروگرام کے اہداف کے حوالے سے بتایا کہ آنے والے وقت میں سعودی عرب تینوں براعظموں کے لیے کلیدی محور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت نے ابھی تک اپنی صلاحیتوں کا 10% سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

شام کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ "ہم ضرورت پڑنے پر اپنے حلیفوں کے ساتھ کسی بھی عسکری کارروائی کے لیے تیار ہیں"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم خطّے کی صورت حال مزید بگاڑنا نہیں چاہتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں