.

قطر پر یہود مخالف جذبات پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری حکومت نے یہود مخالف جذبات پر اکسانے والے انتہا پسند مبلغین کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے اور انھیں ایک طرح سے چھوٹ دے رکھی ہے۔قطری حکومت پر یہ الزام اینٹی ڈیفامیشن لیگ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بلاگ میں عاید کیا گیا ہے۔

اس بلاگ کے لکھاری ڈیوڈ اے وائن برگ نے لکھا ہے کہ ’’ دسمبر 2017ء میں ایک مبلغ محمد المریخی نے مسلم دنیا کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ یہود کے خون اور رگوں میں آپ کی دشمنی اور نفرت رچی بسی ہوئی ہے‘‘۔

انھوں نے یہودی عوام کے یروشلیم اور مقدس سرزمین سے کسی قسم کے تعلق کو بھی مسترد کردیا تھا اورکہا تھا کہ اس حوالے سے ان کا دعویٰ تاریخی طور پر غلط ہے۔انھوں نے یہودیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ فلسطینیوں کی جانب سے ملنے والی رعایتو ں یا ’’نام نہاد بقائے باہمی‘‘ سے مطمئن نہیں ہوں گے ۔انھوں نے تمام مسلمانوں پر زوردیا تھا کہ ’’وہ الاقصیٰ سے یہود کے گند کو صاف کردیں‘‘۔

اسی تقریر میں علامہ محمد المریخی نے یہود کو دھوکے باز ، سازشی ، ناقابل اعتبار اور بدکردار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کو تباہی ، قتل اور بدعنوانی سے دوچار کرنے کے درپے رہتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے کبھی حقیقی دوست نہیں ہوسکتے۔

فلسطینی مزاحمت

قطری عالم نے فلسطینیوں کی اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے خلاف مزاحمت کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ وہ صہیونیوں کی شیطان کی مدد سے کارروائیوں کے باوجود مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس بلاگ میں مسٹر ڈیوڈ اے وائن برگ نے خبردار کیا ہے کہ قطر کی جانب سے مساجد میں مبلغین کو کنٹرول کرنے کے دعووں کے باوجود یہود مخالف جذبات کو پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے اس تحریر میں دو ایک اور علماء کی تقریروں کے بھی حوالے دیے ہیں۔

واضح رہے کہ قطر ان تین عرب ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے سیاسی اور سفارتی تعلقات استوار کررہے ہیں۔ باقی دو ممالک مصر اور اردن ہیں لیکن ان تینوں ممالک کے عوام کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی حامی نہیں ہے اور وہ فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیلی فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں۔