.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام پر روس کی مجوزہ قرارداد کی منظوری میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام عرب جمہوریہ کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی مبینہ جارحیت کی مذمت میں روس کی پیش کردہ قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس مجوزہ قرارداد میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے شام پر حملے کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قراردیا گیا تھا۔

قرارداد کے حق میں صرف روس ، چین اور بولیویا نے ووٹ دیا جبکہ آٹھ ممالک نے اس کی مخالفت کی اور چار نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔پندرہ ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل سے قرارداد کی منظوری کے لیے نو ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور مستقل رکن ممالک امریکا ، برطانیہ ، چین ، فرانس اور روس کی جانب سے کوئی بھی اس کو ویٹو نہ کرے۔

روس نے ہفتے کو سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی اور اس میں امریکا ، برطانیہ اور فرانس کے شام کے خلاف حملے کے بعد کی صورت حال پر غور کیا گیا ۔ امریکا ، برطانیہ اور فرانس نے قبل ازیں کہا کہ انھوں نے شامی حکومت کی فوجی تنصیبات کے خلاف ایک ہفتے قبل دوما میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے رد عمل میں فضائی حملے کیے ہیں۔شامی حکومت اور اس کے اتحادی ایران اور روس باغیوں کے زیر قبضہ شہر پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں کسی قسم کے کردار کی تردید کرچکے ہیں ۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے اجلاس کو شام کی تازہ صورت حال سے آگاہ کیا۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ تمام ممالک کو ان مشکل حالات میں ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے صورت حال مزید خراب اور شامی عوام کے مصائب میں اضافہ ہوسکتا ہو۔

مغربی حکام کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں کو کروز اور فضا سے زمین میں مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیان شب اس آپریشن میں تین شامی اہداف پر حملے کیے گئے تھے۔امریکی فوج کے مطابق دمشق کے علاقے میں واقع ایک سائنسی تحقیقاتی تنصیب ، حمص شہر کے مغرب میں واقع کیمیائی ہتھیاروں کی ذخیرہ گاہ اور حمص ہی کے نواح میں ایک کمانڈ پوسٹ پر میزائل داغے گئے ہیں۔

روس نے خبردار کیا ہے کہ شام کے خلاف کوئی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کی گئی ہے۔

اس سے ایک روز قبل جمعہ کو امریکا ، برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنا کیس پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشار الاسد کی فورسز نے کئی مرتبہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شامی شہریوں کے خلاف زہریلی گیسوں کا استعمال کیا ہے۔ روس نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بشار الاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے اور روس کے اثر ورسوخ پر چیک کے لیے یہ کارروائی کرنے جارہے ہیں۔