.

فرانس نے شام کے صوبے اِدلب میں انسانی المیے سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے خبردار کیا ہے کہ شام کے صوبے اِدلب میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جہاں جبہۃ النصرہ تنظیم کے جنگجو اکٹھا ہو رہے ہیں اور وہ شامی حکومت کی جانب سے اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔

لودریان نے ایک فرانسیسی ہفت روزہ اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ اِدلب صوبے کی آبادی 20 لاکھ کے قریب ہے، ان میں لاکھوں کی تعداد میں وہ شامی بھی ہیں جن کو اُن شہروں سے باہر لایا گیا جو پہلے شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول تھے اور پھر شامی حکومت نے واپس لے لیے۔

لودریان نے باور کرایا کہ فرانس کا بنیادی دشمن داعش تنظیم اور دیگر دہشت گرد گروپ ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ داعش تنظیم مشرقی شام میں اپنی صفوں کو پھر سے یکجا کر رہی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ کے مطابق روس شامی حکومت کی جانب سے کئی مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے مسلسل انکار کر رہا ہے اور بشار الاسد کے لیے اس کی حمایت بلا جواز ہے۔

ایرانی رہبر اعلی کے مشیر اکبر علی ولایتی نے 12 اپریل کو دمشق کے دورے کے دوران اپنی اس "امید" کا اظہار کیا تھا کہ اِدلب کو عنقریب "آزاد" کرا لیا جائے گا۔