.

فوکس نیوز : خاتون میزبان کی جانب سے شام پر بم باری کی انوکھی ترین توجیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف امریکی چینل "فوکس نیوز" کی ایک خاتون میزبان کی جانب سے شام کے بحران کے حوالے سے انتہائی سادہ لوحی اور لا علمی سامنے آئی ہے۔ میزبان نے بشار حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز پر مغربی ممالک کی بم باری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایف بی آئی کے برطرف سربراہ جیمز کومی کی یادداشتوں کو دُھندلانے کی کوششوں سے جوڑ ڈالا۔ ٹرمپ پر تنقید کی حامل اس کتاب کا سرکاری طور پر اجرا منگل کے روز ہو گا۔

شام پر حملے سے کافی گھنٹے قبل جمعے کی صبح فوکس نیوز چینل کے معروف پروگرام "Fox and Friends" میں خاتون میزبان Ainsley Earhardt نے سیاسی تجزیہ کار Geraldo Rivera سے سوال کیا کہ " اگر صدر (ٹرمپ)، فرانس اور برطانیہ نے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے جواب میں شام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تو آپ کے نزدیک یہ خبر جیمز کومی کی کتاب کی جانب سے توجہ کو ہٹا نہیں دے گی ؟".

اس پر سیاسی تجزیہ کار نے پہلے شام کی صورت حال اور وہاں کیمیائی بم باری کے خوف ناک مناظر پر بات چیت کی اور پھر کچھ دیر بعد جیمز کومی کی یادداشتوں اور اس پر ٹرمپ کے موقف پر شام سے بالکل علاحدہ پیرائے میں روشنی ڈالی۔

امریکی خاتون میزبان کی سادہ لوحی سے ہٹ کر یہ بات واضح ہے کہ ٹرمپ کے دشمن امریکی صدر کی ٹوئیٹس اور فیصلوں کا "فوکس نیوز" پر پیش کیے جانے والے سوال کے ساتھ تعلق جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

جیمز کومی کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب کے بعض اقتباسات پہلے ہی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ جن میں امریکی صدر پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔ جیمز کومی نے ٹرمپ کو "بلوے کا صدر" قرار دینے کے علاوہ ان کے لیے کئی دیگر سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس موقف نے وہائٹ ہاؤس میں موجود امریکی صدر اور امریکا کی ایک اہم ترین تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کے سابق سربراہ کے درمیان میڈیا میں غیر مسبوق نوعیت کی معرکہ آرائی کو جنم دیا ہے۔