.

قطری وزیراعظم کی دہشت گردی کے مالی معاون النعیمی کے بیٹے کی شادی میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد بن جاسم آل ثانی نے وائٹ ہاؤس میں 10 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں یہ کہا تھا کہ دوحہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا ہے۔اس سے اگلے ہی روز یعنی 11 اپریل کو قطری وزیراعظم عبداللہ آل ثانی اور دوسرے اعلیٰ حکومتی عہدے داروں نے دہشت گردی کے معروف مالی معاون عبدالرحمان النعیمی کے بیٹے کی شادی میں شرکت کی تھی۔

النعیمی کا نام دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے افراد کی قطری اور بین الاقوامی سطح پر جاری کردہ فہرستوں میں شامل ہے۔ان کی قطری وزیراعظم اور دوسرے عہدے داروں کے ساتھ ایک تصویر منظرعام پر آئی ہے۔یہ قطری فوٹو گرافر ابراہیم حمد المفتاح نے بنائی تھی اور اس کو ہفتے کے روز انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ پر شرسر کیا تھا۔

اس تصویر میں 11 اپریل کو قطری وزیراعظم عبداللہ آل ثانی عبدالرحمان النعیمی کے بیٹے عبداللہ النعیمی کو مبارک باد دینے کے لیے بوسہ دے رہے ہیں۔تصویر میں مطلوب دہشت گرد النعیمی ان کے پیچھے نظر آر ہے ہیں۔

النعیمی کو امریکی حکومت نے دسمبر 2013ء میں دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور اقوام متحدہ نے ستمبر 2014ء میں انھیں خطے میں دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل مہیا کرنے کے الزام میں دہشت گرد قرار دیا تھا۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 64 سالہ النعیمی نے عراق میں القاعدہ کو کروڑوں ڈالرز دیے تھے۔

وہ قطر کی نیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔وہ قطری تنظیم عید چیرٹی کے بانی اور بورڈ کے رکن ہیں ۔اس کو دہشت گرد ی مخالف چار ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سال دہشت گرد گروپوں کا مالی معاون قرار دے دیا تھا ۔

عبدالرحمان النعیمی کا نام قطر کی جانب سے مارچ میں جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل تھا۔

قطری اخبار الرایہ نے عبدالرحمان النعیمی کو ان کے بیٹے کی شادی کی مبارک باد کے لیے اشتہار شائع کیا تھا۔شادی کی تقریب میں حکومتی شخصیات کے علاوہ متعدد معروف قطری شخصیات نے بھی شرکت کی تھی۔ان میں عبداللہ السلیطی بھی شامل تھے۔وہ الرایہ کے لکھاری ہیں اور خود کو قطر کی تیل کی صنعت کے مشیر بتاتے ہیں۔ وہ قطر ی اخبار الشرق کے ماضی میں مدیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔