.

’مکان گرانے کے خلاف احتجاجا والد نے شیرخوار بچی پھینک دی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی افریقا میں ایک غیر رہائشی علاقے میں بنائے غیرقانونی مکانات گرانے کی ایک کارروائی کے دوران پیش آنے والے واقعے نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔

ہوا یہ کہ ایک قصبے کے قریب غریب اور نادار افراد نے جھونپڑی نما مکان تعمیر کررکھے تھے اور حکومت نے انہیں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزارت قرار دے کر مسمارکرنا چاہتی تھی۔ مقامی بلدیہ نے پولیس کے سیکیورٹی میں اپنی ٹیم ان مکانوں کو گرانے کے لیے پہنچی تو وہاں موجود لوگوں نے ٹائر جلا کر نعرے لگائے اور روایتی انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

مگر اس موقع پر ایک سرپھرے شخص نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ آدھ گھنٹے کے تکرار کے بعد احتجاج کا ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس نے رونگٹے کھڑے کردیے۔

38 سالہ نے اپنی 6 ماہ کی بچی اٹھائی اور اپنے مکان کی چھت جو زمین سے تقریبا پانچ میٹر اونچی تھی بچی پھینک دی اور ساتھ خود بھی چھلانگ لگانے کی کوشش کی تاہم پولیس اہلکاروں نے اسے پکڑ لیا۔

برطانوی اخبار ’سن‘ نے اس انوکھے احتجاج پر روشنی ڈالی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مکان کی چھت سے پھینکی بچی خوش قسمتی سے پکڑ لی گئی اور اسے زمین پر گرنے نہیں دیا گیا ورنہ اس معصوم کی موت یقینی تھی۔ جب بچی کو پھینکا گیا تو اس وقت وہاں کوئی 150 احتجاجی اور سات پولیس اہلکار موجود تھے۔

یہ واقعہ جمعہ کے روز جنوبی افریقا کے ساحلی شہر ’پورٹ الیزا بیتھ‘ میں ’جوئی سلوو‘ میں پیش آیا۔ گھر سے محروم افراد نے وہاں پر 90 جھونپڑیاں تعمیر کر رکھی ہیں اور حکومت انہیں غیرقانونی قرار دے کر مسمار کرنا چاہتی ہے۔

احتجاجا بچی کو مکان کے چھت سے پھینکے جانے کا واقعہ ایک تصویری فوٹیج کی شکل میں ’یوٹیوب‘ پر بھی پوسٹ کیا گیا ہے اور العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی اسے اپنی ویب سائیٹ پر نشر کیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق بچی کو پھینکنے کے الزام میں اس کے والد کو اقدام قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ چلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔