سعودی فرمانروا اور عرب قیادت نے خلیج کی ڈھال مشقوں میں کیا دیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ابو ظبی کے ولی عہد محمد بن زاید بن سلطان آل نہیان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سمیت مختلف عرب رہ نماؤں نے مشترکہ عرب مشقوں خلیج ڈھال اوّل کی اختتامی تقریب میں شرکت کی ہے۔

خلیج ڈھال اوّل مشقیں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہوئی ہیں اور سعودی عرب میں یہ ایک ماہ تک جاری رہی ہیں۔ یہ فوجیوں اور شریک ممالک کی تعداد کے لحاظ سے خطے میں سب سے بڑی مشقیں تھیں۔ اس کے علاوہ یہ حربی صلاحیتوں کی جانچ اور ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت کی جانچ کے اعتبار سے بھی بڑی مشقیں تھیں۔

خلیج ڈھال مشقیں مختلف ممکنہ جنگی منظرناموں میں کی گئی ہیں ۔ان میں شریک ممالک کی تینوں مسلح افواج اور خصوصی پیشہ ور دستوں نے شرکت کی ہے،ان کا مقصد شریک ممالک کی جنگی صلاحیتوں اور حربی تیاریوں میں اضافہ کرنا تھا، ان میں میکانزم کی جدت ، جدید ہتھیاروں اور آلات کے تجربات کیے گئے ہیں تاکہ عسکری اور سکیورٹی تعاون اور رابطے کو مزید مربوط بنایا جا سکے۔

ان مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد درپیش چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ جنگی ماحول میں موجودہ حربی صلاحیتوں کی جانچ کرنا تھا تاکہ شریک ممالک کی افواج وقتِ ضرورت ان مشترکہ حربی صلاحیتوں کو بروئے لا سکیں ۔ان مشقو ں میں مسلح افواج کی اعلیٰ مسابقتی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ تربیت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں